سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 26
سیرت المہدی 26 حصہ اوّل چیرو پر ایک رنگ آتا تھا اور ایک رنگ جاتا تھا۔اور وہ کبھی ادھر بھا گیا تھا اور کبھی ادھر۔کبھی اپنی پگڑی اتار کر حضرت صاحب کی ٹانگوں کو باندھتا تھا اور کبھی پاؤں دبانے لگ جاتا تھا اور گھبراہٹ میں اس کے ہاتھ کانپتے تھے۔37 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جب محمدی بیگم کی شادی دوسری جگہ ہوگئی اور قادیان کے تمام رشتہ داروں نے حضرت صاحب کی سخت مخالفت کی اور خلاف کوشش کرتے رہے اور سب نے احمد بیگ والد محمدی بیگم کا ساتھ دیا اور خود کوشش کر کے لڑکی کی شادی دوسری جگہ کرا دی تو حضرت صاحب نے مرزا سلطان احمد اور مرز افضل احمد دونوں کو الگ الگ خط لکھا کہ ان سب لوگوں نے میری سخت مخالفت کی ہے۔اب ان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کے ساتھ اب ہماری قبریں بھی اکٹھی نہیں ہوسکتیں لہذا اب تم اپنا آخری فیصلہ کرو اگر تم نے میرے ساتھ تعلق رکھنا ہے تو پھر ان سے قطع تعلق کرنا ہوگا اور اگر ان سے تعلق رکھنا ہے تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں رہ سکتا۔میں اس صورت میں تم کو عاق کرتا ہوں۔والدہ صاحبہ نے فرمایا مرزا سلطان احمد کا جواب آیا کہ مجھ پر تائی صاحبہ کے احسانات ہیں میں ان سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔مگر مرزا فضل احمد نے لکھا کہ میرا تو آپ کے ساتھ ہی تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔حضرت صاحب نے جواب دیا کہ اگر یہ درست ہے تو اپنی بیوی بنت مرزا علی شیر کو ( جو سخت مخالف تھی اور مرزا احمد بیگ کی بھانجی تھی ) طلاق دے دو۔مرز افضل احمد نے فوراً طلاق نامہ لکھ کر حضرت صاحب کے پاس روانہ کر دیا۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ پھر فضل احمد باہر سے آکر ہمارے پاس ہی ٹھہرتا تھا مگر اپنی دوسری بیوی کی فتنہ پردازی سے آخر پھر آہستہ آہستہ ادھر جا ملا۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ فضل احمد بہت شرمیلا تھا۔حضرت صاحب کے سامنے آنکھ نہیں اُٹھاتا تھا۔حضرت صاحب اس کے متعلق فرمایا کرتے تھے کہ فضل احمد سیدھی طبیعت کا ہے اور اس میں محبت کا مادہ ہے مگر دوسروں کے پھسلانے سے اُدھر جا ملا ہے۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ جب فضل احمد کی وفات کی خبر آئی تو اس رات حضرت صاحب قریباً ساری رات نہیں سوئے اور دو تین دن تک مغموم سے رہے۔خاکسار نے