سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 25
سیرت المہدی 25 حصہ اوّل میرے کان کے پاس منہ کر کے فرمایا قاضی صاحب دو ہی پڑھیں گے نا؟ میں نے عرض کیا حضور دو ہی پڑھوں گا۔بس اس وقت سے ہمارا مسلہ حل ہو گیا اور میں نے اپنا خیال ترک کر دیا۔34 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ میرا ایک لڑکا جو پہلی بیوی سے تھا۔فوت ہو گیا۔اس کی ماں نے بڑا جزع فزع کیا اور اس کی والدہ یعنی بچے کی نانی نے بھی اسی قسم کی حرکت کی۔میں نے ان کو بہت روکا مگر نہ باز آئیں ، جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس لڑکے کا جنازہ پڑھنے آئے تو جنازہ کے بعد آپ کھڑے ہو گئے اور بہت دیر تک وعظ فرماتے رہے اور آخر میں فرمایا قاضی صاحب اپنے گھر میں بھی میری یہ نصیحت پہنچادیں۔میں نے گھر آکر بیوی کو حضرت صاحب کا وعظ سنایا پھر اس کے بعد اس کے دو تین لڑکے فوت ہوئے مگر اس نے سوائے آنسو گرانے کے کوئی اور حرکت نہیں کی۔35 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان سے گورداسپور جاتے ہوئے بٹالہ ٹھہرے وہاں کوئی مہمان جو آپ کی تلاش میں قادیان سے ہوتا ہوا بٹالہ واپس آیا تھا آپ کے پاس کچھ پھل بطور تحفہ لایا۔پھلوں میں انگور بھی تھے۔آپ نے انگور کھائے اور فر ما یا انگور میں ترشی ہوتی ہے مگر یہ ترشی نزلہ کے لئے مضر نہیں ہوتی۔پھر آپ نے فرمایا ابھی میرا دل انگور کو چاہتا تھا سو خدا نے بھیج دیئے۔فرمایا کئی دفعہ میں نے تجربہ کیا ہے کہ جس چیز کو دل چاہتا ہے اللہ اسے مہیا کر دیتا ہے۔پھر ایک دفعہ سنایا کہ میں ایک سفر میں جارہا تھا کہ میرے دل میں پونڈے گنے کی خواہش پیدا ہوئی مگر وہاں راستہ میں کوئی گنا میسر نہیں تھا مگر اللہ کی قدرت کہ تھوڑی دیر کے بعد ایک شخص ہم کومل گیا جس کے پاس پونڈے تھے ، اس سے ہم کو پونڈے مل گئے۔36 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ اوائل میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تخت دورہ پڑا کسی نے مرزا سلطان احمد اور مرز افضل احمد کو بھی اطلاع دے دی اور وہ دونوں آگئے۔پھر ان کے سامنے بھی حضرت صاحب کو دورہ پڑا۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں اس وقت میں نے دیکھا کہ مرزا سلطان احمد تو آپ کی چار پائی کے پاس خاموشی کے ساتھ بیٹھے رہے۔مگر مرز افضل احمد کے