سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 298 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 298

سیرت المہدی 298 حصہ دوم ظاہر کرتا ہے وہ عموماً و قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو مخالفین کے لئے ظاہر کئے جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو مؤمنین کے لئے ظہور پذیر ہوتے ہیں۔اوّل الذکر قسم میں اخفاء کا پردہ زیادہ رکھا جاتا ہے۔اور احتمالات کے پہلو زیادہ گھلے رہتے ہیں مگر ثانی الذکر قسم میں مقابلہ اخفاء کم ہوتا ہے اور کچھ کچھ شہود کا پہلو غالب ہوتا جاتا ہے۔یہ اس لئے کہ خدا وند تعالے انے اپنے نہایت حکیمانہ فعل سے یہ مقدر کیا ہے کہ ایمان کی ابتدا غیب سے شروع ہو اور پھر جوں جوں ایک انسان ایمان کے راستہ پر قدم اُٹھاتا جاتا ہے اس کے لئے علی قدر مراتب شہود کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں اور میرے اس یقین کے میرے پاس وجوہ ہیں کہ کئی نشانات انبیاء ومرسلین پر ایسے ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کا وہ کسی فرد بشر پر بھی اظہار نہیں کرتے۔کیونکہ وہ محض انکی ذات کے لئے ہوتے ہیں اور ایسے نشانات میں ان کے مقام قرب و عرفان کے مطابق پورا پورا شہود کا رنگ ہوتا ہے۔پس اگر کوئی خارق عادت امر حضرت مسیح موعود پر ظاہر ہوا ہو اور حضرت نے اس کو عام طور پر ظاہر نہ کیا ہو تو میرے نزدیک یہ بات ہرگز قابل تعجب نہیں ہے۔واللہ اعلم۔یہ حقیقت جو خاکسار نے بیان کی ہے آنحضرت ﷺ (فدا نفسی) کے حالات زندگی میں بھی واضح طور پر نظر آتی ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تھوڑے کھانے سے زیادہ آدمیوں کے شکم سیر ہو جانے اور تھوڑے پانی سے ایک بڑی جماعت کے سیراب ہو جانے اور آپ کی انگلیوں سے پانی کے پھوٹ پھوٹ کر بہنے وغیرہ وغیرہ واقعات صرف صحابہ کی جماعت کیلئے ظاہر ہوئے اور مشرکین کو ( جن کو بظاہر ان باتوں کی زیادہ ضرورت تھی ) ان نشانات میں سے حصہ نہ ملا۔جس کی یہی وجہ تھی کہ جو نشانات مشرکین کو دکھائے گئے۔ان میں زیادہ اخفاء مقصود تھا۔ہاں اس موقعہ پر مجھے یہ بھی یاد آیا کہ خود حضرت مسیح موعود کے ہاتھ پر کھانے کے زیادہ ہو جانے کا خارق عادت امرظاہر ہوا مگر اس کے دیکھنے والے صرف آپ کے خاص خاص صحابہ تھے اور آپ نے کبھی ان باتوں کا عام طور پر اظہار نہیں فرمایا اور کرتہ پر سرخی کے چھینٹے پڑنے کو جو آپ نے ظاہر فرمایا تو اول تو خود اس کے متعلق میاں عبداللہ صاحب کی روایت سے ظاہر ہے کہ ابتداء آپ نے اسے مخفی رکھنے کی کوشش فرمائی تھی اور پھر میاں عبداللہ صاحب کے اصرار پر اسے بڑی لمبی چوڑی تمہید کے بعد ظا ہر فر مایا تھا۔علاوہ ازیں