سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 24
سیرت المہدی 24 حصہ اوّل دوسرے بچوں کے ساتھ چار پائیوں پر لیٹے ہوئے سو رہے تھے ، جب زلزلہ آیا تو ہم سب ڈر کر بے تحاشا اُٹھے اور ہم کو کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔صحن میں آئے تو اوپر سے کنکر روڑے برس رہے تھے ہم بھاگتے ہوئے بڑے مکان کی طرف آئے وہاں حضرت مسیح موعود اور والدہ صاحبہ کمرے سے نکل رہے تھے۔ہم نے جاتے ہی حضرت مسیح موعود کو پکڑ لیا اور آپ سے لپٹ گئے۔آپ اس وقت گھبرائے ہوئے تھے اور بڑے صحن کی طرف جانا چاہتے تھے مگر چاروں طرف بچے چمٹے ہوئے تھے اور والدہ صاحبہ بھی۔کوئی اِدھر کھینچتا تھا تو کوئی اُدھر اور آپ سب کے درمیان میں تھے آخر بڑی مشکل سے آپ اور آپ کے ساتھ چھٹے ہوئے ہم سب بڑے صحن میں پہنچے۔اس وقت تک زلزلے کے دھکے بھی کمزور ہو چکے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد آپ ہم کو لے کر اپنے باغ میں تشریف لے گئے۔دوسرے احباب بھی اپنا ڈیرا ڈنڈا اٹھا کر باغ میں پہنچ گئے۔وہاں حسب ضرورت کچھ کچے مکان بھی تیار کروا لئے گئے اور کچھ خیمے منگوا لئے گئے اور پھر ہم سب ایک لمبا عرصہ باغ میں مقیم رہے۔ان دنوں میں مدرسہ بھی وہیں لگتا تھا۔گویا باغ میں ایک شہر آباد ہو گیا تھا۔اللہ اللہ کیا زمانہ تھا۔33 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا ہم سے قاضی امیر حسین صاحب نے کہ میں اوائل میں اس بات کا قائل تھا کہ سفر میں قصر نماز عام حالات میں جائز نہیں بلکہ صرف جنگ کی حالت میں فتنہ کے خوف کے وقت جائز ہے اور اس معاملہ میں مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول) کے ساتھ بہت بحث کیا کرتا تھا۔قاضی صاحب نے بیان کیا کہ جن دنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گورداسپور میں مقدمہ تھا ایک دفعہ میں بھی وہاں گیا۔حضرت صاحب کے ساتھ وہاں مولوی صاحب ( حضرت خلیفہ اوّل) اور مولوی عبدالکریم صاحب بھی تھے مگر ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ نے مجھے فرمایا کہ قاضی صاحب آپ نماز پڑھائیں۔میں نے دل میں پختہ ارادہ کیا کہ آج مجھے موقعہ ملا ہے میں قصر نہیں کروں گا بلکہ پوری پڑھوں گا تا اس مسئلہ کا کچھ فیصلہ ہو۔قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ ارادہ کر کے ہاتھ اٹھائے کہ قصر نہیں کروں گا حضرت صاحب میرے پیچھے دائیں طرف کھڑے تھے۔آپ نے فوراً قدم آگے بڑھا کر