سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 285 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 285

رت المہدی 285 حصہ دوم فریق مخالف پر گویا ایک موت وارد ہوگئی اور مولوی عبدالحکیم صاحب نے اسی پر مباحثہ ختم کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مندرجہ بالا روایتوں میں جو اختلاف ہے اس کے متعلق خاکسار ذاتی طور پر کچھ عرض نہیں کر سکتا۔کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ہاں اس قدر درست ہے کہ نونِ ثقیلہ والی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر والے مباحثہ میں پیش آئی تھی۔اور بظاہر اس سے بخاری والے حوالہ کا جوڑ نہیں ہے۔پس اس حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ دہلی والے مباحثہ کا نہیں ہے۔آگے رہا لا ہور اور لدھیانہ کا اختلاف ،سواس کے متعلق میں کچھ عرض نہیں کر سکتا۔نیز خاکسار افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہے کہ اس وقت جبکہ سیرۃ المہدی کا حصہ سوم زیر تصنیف ہے۔پیر سراج الحق صاحب نعمانی فوت ہو چکے ہیں۔پیر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق روایات کا ایک عمدہ خزانہ تھے۔307 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار کے ماموں ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ گھر میں ایک مرغی کے چوزہ کے ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی۔اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہ تھا اس لئے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری پھیرنے کے غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی۔جس سے بہت خون بہہ گیا۔اور آپ تو بہ تو بہ کرتے ہوئے چوزہ کو چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے۔پھر وہ چوزہ کسی اور نے ذبح کیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کی عادت تھی کہ جب کوئی چوٹ وغیرہ اچا نک لتی تھی تو جلدی جلدی تو بہ تو بہ کے الفاظ منہ سے فرمانے لگ جاتے تھے۔دراصل جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ عموماً کسی قانون شکنی کا نتیجہ ہوتی ہے۔خواہ وہ قانون شریعت ہو یا قانون نیچر یعنی قانون قضاء وقد ریا کوئی اور قانون ، پس ایک صحیح الفطرت آدمی کا یہی کام ہونا چاہیے کہ وہ ہر قسم کی تکلیف کے وقت تو بہ کی طرف رجوع کرے۔اور یہی مفہوم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے کا ہے جس کی کہ قرآن شریف تعلیم دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چونکہ کبھی جانور وغیرہ ذبح نہ کئے تھے۔اس لئے بجائے چوزہ کی گردن کے اپنی انگلی پر چھری پھیر لی۔اور یہ نتیجہ تھا اس بات کا کہ آپ قانون ذبح کے عملی پہلو سے واقف نہ تھے۔واللہ اعلم۔