سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 284
سیرت المہدی 284 حصہ دوم لدھیانہ کے مباحثہ میں مولوی محمد حسین بٹالوی نے بخاری کا ایک حوالہ طلب کیا تھا۔بخاری موجود تھی۔لیکن اس وقت اس میں یہ حوالہ نہیں ملتا تھا۔آخر کہیں سے تو ضیح تلویح منگا کر حوالہ نکال کر دیا گیا۔صاحب توضیح 66 نے لکھا ہے۔کہ یہ حدیث بخاری میں ہے۔اور اس واقعہ کے متعلق شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا کہ:۔روایت نمبر ۳۰۶ میں حضرت حکیم الامت خلیفہ اسیح اول کی روایت سے ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے اور حضرت مکرمی مفتی محمد صادق صاحب کی روایت سے اس کی مزید تصریح کی گئی ہے۔مگر مفتی صاحب نے اُسے لدھیانہ کے متعلق بیان فرمایا ہے اور نونِ ثقیلہ والی بحث کے تعلق میں ذکر کیا ہے۔جو درست نہیں ہے۔مفتی صاحب کو اس میں غلطی لگی ہے۔لدھیانہ میں نہ تو نونِ ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث ہوئی اور نہ اس قسم کے حوالہ جات پیش کرنے پڑے۔نونِ ثقیلہ کی بحث دہلی میں مولوی محمد بشیر بھو پالوی والے مباحثہ کے دوران میں پیش آئی تھی۔اور وہ نون ثقیلہ کی بحث میں اُلجھ کر رہ گئے تھے۔اور جہاں تک میری یا د مساعدت کرتی ہے اس مقصد کے لئے بھی بخاری کا کوئی حوالہ پیش نہیں ہوا۔الحق دہلی سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔دراصل یہ واقعہ لاہور میں ہوا تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ”محد ثیت اور نبوت پر بحث ہوئی تھی۔یہ مباحثہ محبوب رائیوں کے مکان متصل لنگے منڈی میں ہوا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے محدثیت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے بخاری کی اس حدیث کا حوالہ دیا۔جس میں حضرت عمر کی محدثیت پر استدلال تھا۔مولوی عبدالحکیم صاحب کے مددگاروں میں سے مولوی احمد علی صاحب نے حوالہ کا مطالبہ کیا۔اور بخاری خود بھیج دی۔مولوی محمد احسن صاحب نے حوالہ نکالنے کی کوشش کی مگر نہ نکلا۔آخر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود نکال کر پیش کیا۔اور یہ حدیث صحیح بخاری پارہ ۱۴ حصہ اول باب مناقب عمرہ میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں۔عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالى عنه۔قال النَّبِيُّ صلّى الله عليه وسلم قد كان فيمن قبلكم من بنى اسرائيل رجال يُكَلَّمُونَ من غيران يكونوا انبياء فَإِنْ يَكُ مِنْ أُمَّتِى مِنْهُمْ اَحَدٌ فَعُمَر - جب حضرت صاحب نے یہ حدیث نکال کر دکھا دی۔تو