سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 283 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 283

سیرت المہدی 283 حصہ دوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول سے اس روایت کے سننے کے بعد ایک دفعہ خاکسار نے ایک مجمع میں یہ روایت زیادہ تفصیلی طور پر مفتی محمد صادق صاحب سے بھی سنی تھی۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ یہ واقعہ لدھیانہ کا ہے اور اس وقت حضرت صاحب کو غالبا نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔سواوّل تو بخاری ہی نہیں ملتی تھی اور جب ملی تو حوالہ کی تلاش مشکل تھی اور اعتراض کرنے والے مولوی کے سامنے حوالہ کا جلد رکھا جانا از بس ضروری تھا۔اس پر آپ نے بخاری اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور چند چند صفحات کے بعد فرماتے تھے کہ یہ لکھ لو۔اس جلدی کو دیکھ کر کسی خادم نے عرض کیا کہ حضور ذرا اطمینان سے دیکھا جاوے تو شاید زیادہ حوالے مل جاویں۔آپ نے فرمایا کہ نہیں بس یہی حوالے ہیں جو میں بتا رہا ہوں۔ان کے علاوہ اس کتاب میں کوئی حوالہ نہیں کیونکہ سوائے حوالہ کی جگہ کے مجھے سب جگہ خالی نظر آتی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آدمی اللہ کا ہو کر رہے پھر وہ خود حقیقی ضرورت کے وقت اسکے لئے غیب سے سامان پیدا کر دیتا ہے اور اگر اس وقت تقدیر عام کے ماتحت اسباب میسر نہ آ سکتے ہوں اور ضرورت حقیقی ہو تو تقدیر خاص کے ماتحت بغیر مادی اسباب کے اسکی دستگیری فرمائی جاتی ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو۔مگر وہ شخص جس کی نظر عالم مادی سے آگے نہیں جاتی اس حقیقت سے نا آشنار ہتا ہے،مولانا رومی نے خوب فرمایا ہے:۔فلسفی کو منکر حنانه است از حواس انبیاء بیگانه است اس واقعہ کے متعلق پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے بذریعہ تحریر خاکسار سے بیان کیا۔کہ یہ واقعہ میرے سامنے پیش آیا تھا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے مباحثہ تھا اور میں اس میں کا تب تھا۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کے پرچوں کی نقل کرتا تھا۔مفتی محمد صادق صاحب نے جو یہ بیان کیا ہے کہ غالبا حضرت صاحب کو نون ثقیلہ یا خفیفہ کی بحث میں حوالہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔اس میں جناب مفتی صاحب کو غلطی لگی ہے۔کیونکہ مفتی صاحب وہاں نہیں تھے۔نون خفیفہ و قیلہ کی بحث تو دہلی میں مولوی محمد بشیر سہسوانی تم بھو پالوی کے ساتھ تھی۔اور تلاش حوالہ بخاری کا واقعہ لدھیانہ کا ہے۔بات یہ تھی کہ