سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 276 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 276

سیرت المہدی 276 حصہ اوّل کوئی نقش و نگار نہیں کئے لیکن اس کو ایسا صاف کیا اور چمکایا کہ ایک مصفا شیشے سے بھی اپنے صیقل میں وہ بڑھ گئی۔پھر بادشاہ نے پہلے کاریگر سے کہا کہ اپنا نمونہ پیش کرو چنانچہ اس نے وہ نقش و نگار سے مزین دیوار پیش کی اور سب دیکھنے والے اُسے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔پھر بادشاہ نے دوسرے کا ریگر سے کہا کہ اب تم اپنے کمال کا نمونہ پیش کرو اس نے عرض کیا کہ حضور یہ حجاب درمیان سے اٹھا دیا جاوے۔چنانچہ بادشاہ نے اُسے اٹھواد یا تو لوگوں نے دیکھا کہ بعینہ اس قسم کی دیوار جو پہلے کاریگر نے تیار کی تھی دوسری طرف بھی کھڑی ہے۔کیونکہ درمیانی حجاب اُٹھ جانے سے دیوار کے سب نقش و نگار بغیر کسی فرق کے اس دوسری دیوار پر ظاہر ہو گئے۔میاں عبداللہ صاحب کہتے تھے کہ جب حضرت صاحب نے مجھے یہ بات سنائی تو میں سمجھا کہ شاید کسی بادشاہ کا ذکر ہوگا اور میں نے اس کے متعلق کوئی زیادہ خیال نہ کیا لیکن جب حضرت مسیح موعود نے ظلی نبوت کا دعوی کیا تو تب میں سمجھا کہ یہ تو آپ نے اپنی ہی مثال سمجھائی تھی۔چنانچہ میں نے ظلی نبوت کا مسئلہ یہی مثال دیکر غوث گڑھ والوں کو سمجھایا اور وہ اچھی طرح سمجھ گئے۔پھر جب لاہوریوں کی طرف سے مسئلہ نبوت میں اختلاف ہوا تو اس وقت غوث گڑھ کی جماعت کو کوئی تشویش پیدا نہیں ہوئی اور انہوں نے کہا کہ یہ بات تو آپ نے ہم کو پہلے سے سمجھائی ہوئی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ واقعی حضرت مسیح موعود کا کمال اسی میں ہے کہ آپ نے اپنے لوح قلب کو ایسا صیقل کیا کہ اس نے سرور کائنات کے نقش و نگار کی پوری پوری تصویر اتار لی اور لا ریب جو کوئی بھی اپنے دل کو پاک وصاف کر دیگا وہ اپنی استعداد کے مطابق آپ کے نقش و نگار حاصل کر لے گا۔محمد رسول اللہ ﷺ بخیل نہیں ہیں بلکہ بخل ہم میں ہے جو آ پ کی اتباع کو کمال تک نہیں پہنچاتے۔اللهم صل عليه و على آله و علی اصحابه و علی عبدك المسيح الموعود و بارک وسلم و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔تمام شُد