سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 275
سیرت المہدی 275 حصہ اوّل قائم کئے ہیں مثلاً حضرت ابوبکر اور حضرت علیؓ اور حضرت زید اور حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ کی مقابلہ فضیلت کے متعلق مسلمانوں میں بہت کچھ کہا اور لکھا گیا ہے۔مگر خاکسار کے نزدیک اگر جہات اور نو عیت محبت کے اصولوں کو مدنظر رکھا جاوے اور اس علم کی روشنی میں آنحضرت علی کے اُس طریق اور اُن اقوال پر غور کیا جاوے جن سے لوگ عموماً استدلال پکڑتے ہیں تو بات جلد فیصلہ ہو جاوے۔حضرت علیؓ آنحضرت ﷺ کے عزیز تھے اور بالکل آپ کے بچوں کی طرح آپ کے ساتھ رہتے تھے۔اس لئے ان کے متعلق آپ کا طریق اور آپ کے الفاظ اور قسم کی محبت کے حامل تھے۔مگر حضرت ابو بکر آپ کے ہم عمر اور غیر خاندان سے تھے۔اور سنجیدہ مزاج بزرگ آدمی تھے اسلئے ان کے ساتھ آپ کا طریق اور آپ کے الفاظ اور قسم کے ہوتے تھے، ہر دوکو اپنے اپنے رنگ کے معیاروں سے ناپا جاوے تو پھر موازنہ ہوسکتا ہے۔مفتی محمد صادق صاحب سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایسی ہی محبت تھی جیسے چھوٹے عزیزوں سے ہوتی ہے۔اور اسی کے مطابق آپ کا ان کے ساتھ رویہ تھا۔لہذا مولوی شیر علی صاحب کی روایت سے یہ مطلب نہ سمجھنا چاہیے اور نہ غالبا مولوی صاحب کا یہ مطلب ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مفتی صاحب کے ساتھ مثلاً حضرت مولوی نور الدین صاحب یا مولوی عبدالکریم صاحب جیسے بزرگوں کی نسبت بھی زیادہ محبت تھی۔304 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ابتدائی زمانہ کی بات ہے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے مجھ سے فرمایا کہ ایک بادشاہ نے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم اپنے ہنر اور کمال کا مجھے نمونہ دکھاؤ اور نمونہ بھی ایسا نمونہ ہو کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو۔گویا اپنے انتہائی کمال کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کرو۔اور پھر اس بادشاہ نے ایک دوسرے اعلیٰ درجہ کے کا ریگر سے کہا کہ تم بھی اپنے کمال کا اعلیٰ ترین نمونہ بنا کر پیش کرو۔اور ان دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک حجاب حائل کر دیا۔کاریگر نمبر اول نے ایک دیوار بنائی اور اس کو نقش و نگار سے اتنا آراستہ کیا کہ بس حد کر دی۔اور اعلیٰ ترین انسانی کمال کا نمونہ تیار کیا۔اور دوسرے کاریگر نے ایک دیوار بنائی مگر اس کے اوپر