سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 274 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 274

برت المهدی 274 حصہ اوّل آپ ہنسے اور فرمایا کہ ہاں خواجہ صاحب کے حافظہ کا تو یہ حال ہے کہ ایک دفعہ یہ رفع حاجت کیلئے پاخانہ گئے اور لوٹا وہیں بھول آئے اور لوگ تلاش کرتے رہے کہ لوٹا کدھر گیا۔آخر لوٹا پاخانہ میں ملا۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ حضرت اقدس علیہ السلام اپنے خدام کے ساتھ بالکل بے تکلف رہتے تھے اور ان کی ساری باتوں میں شریک ہو جاتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس مجموعہ کی کا پیاں لکھی جارہی تھیں کہ مفتی صاحب امریکہ سے جہاں وہ تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے ہوئے تھے واپس تشریف لے آئے اور اپنی بعض تقریروں میں انہوں نے یہ باتیں بیان کیں۔خاکسار نے اس خیال سے کہ مفتی صاحب کا اس کتاب میں حصہ ہو جاوے۔انہیں درج کر دیا ہے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی شیر علی صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ یوں تو حضرت صاحب اپنے سارے خدام سے ہی بہت محبت رکھتے تھے لیکن میں محسوس کرتا تھا کہ آپ کو مفتی صاحب سے خاص محبت ہے۔جب کبھی آپ مفتی صاحب کا ذکر فرماتے تو فرماتے ”ہمارے مفتی صاحب“ اور جب مفتی صاحب لاہور سے قادیان آیا کرتے تھے تو حضرت صاحب ان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میرے نزدیک محبت اور اس کے اظہار کے اقسام ہیں جنھیں نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض وقت لوگ غلط خیالات قائم کر لیتے ہیں۔انسان کی محبت اپنی بیوی سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور والدین سے اور رنگ کی۔رشتہ داروں سے اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں سے اور رنگ کی۔رشتہ داروں میں سے عمر کے لحاظ سے چھوٹوں سے اور رنگ کی محبت ہوتی ہے اور بڑوں سے اور رنگ کی۔خادموں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے اور دوسروں کے ساتھ اور رنگ کی۔دوستوں میں سے بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ محبت اور رنگ کی ہوتی ہے۔چھوٹوں کے ساتھ اور رنگ کی۔اپنے جذبات محبت پر قابور رکھنے والوں کیساتھ اور رنگ کی ہوتی ہے ، اور وہ جن کی بات بات سے محبت ٹپکے اور وہ اس جذبہ کو قابو میں نہ رکھ سکیں انکے ساتھ اور رنگ کی وغیرہ وغیرہ۔غرض محبت اور محبت کے اظہار کے بہت سے شعبے اور بہت سی صورتیں ہیں جن کے نظر انداز کرنے سے غلط نتائج پیدا ہو جاتے ہیں۔ان باتوں کو نہ سمجھنے والے لوگوں نے فضیلت صحابہ کے متعلق بھی بعض غلط خیال