سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 273
سیرت المہدی 273 حصہ اوّل 302 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ جب میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر تھا تو آپ کے کمرہ کا دروازہ زور سے کھٹکا اور سید آل محمد صاحب امروہوی نے آواز دی کہ حضور میں ایک نہایت عظیم الشان فتح کی خبر لایا ہوں۔حضرت صاحب نے مجھ سے فرمایا کہ آپ جا کر ان کی بات سن لیں کہ کیا خبر ہے۔میں گیا اور سید آل محمد صاحب سے دریافت کیا انہوں نے کہا کہ فلاں جگہ مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی کا فلاں مولوی سے مباحثہ ہوا تو مولوی صاحب نے اُسے بہت سخت شکست دی۔اور بڑا رگیدا۔اور وہ بہت ذلیل ہوا وغیرہ وغیرہ۔اور مولوی صاحب نے مجھے حضرت صاحب کے پاس روانہ کیا ہے کہ جا کر اس عظیم الشان فتح کی خبر دوں۔مفتی صاحب نے بیان کیا کہ میں نے واپس آکر حضرت صاحب کے سامنے آل محمد صاحب کے الفاظ دہرا دئیے۔حضرت صاحب ہنسے اور فرمایا۔(کہ ان کے اس طرح دروازہ کھٹکھٹانے اور فتح کا اعلان کرنے سے ) ” میں سمجھا تھا کہ شاید یورپ مسلمان ہو گیا ہے۔مفتی صاحب کہتے تھے کہ اس سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت اقدس کو یورپ میں اسلام قائم ہو جانے کا کتنا خیال تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ گوتبلیغ کیلئے سب جگہیں برابر ہیں اور ہر غیر مسلم ایک سا مستحق ہے کہ اس تک حق پہنچایا جاوے اور ہر غیر مسلم کا مسلمان ہونا ہمارے لئے ایک سی خوشی رکھتا ہے خواہ کوئی بادشاہ ہو یا ایک غریب بھنگی لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ بعض اوقات ایک خاص قوم یا خاص ملک کے متعلق حالات ایسے جمع ہو جاتے ہیں کہ اس کی تبلیغ خاص رنگ پیدا کر لیتی ہے۔آجکل یورپ مسیحیت اور مادیت کا گھر ہے۔پس لا ریب اس کا مسلمان ہونا اسلام کی ایک عظیم الشان فتح ہے۔303 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مفتی محمد صادق صاحب نے کہ ایک دفعہ ہم چند دوست مسجد میں بیٹھے ہوئے خواجہ کمال الدین صاحب کی عادت نسیان کے متعلق باتیں کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اندر سے ہماری باتوں کو سن لیا اور کھڑ کی کھول کر مسجد میں تشریف لے آئے۔اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آپ کیا باتیں کرتے ہیں؟ ہم نے عرض کیا کہ حضور خواجہ صاحب کے حافظہ کا ذکر ہورہا تھا۔