سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 272
سیرت المہدی 272 حصہ اوّل صاحب سے عرض کرو کہ تکلیف نہ فرمائیں میں بھاگی گئی تو حضرت صاحب سیٹرھیوں کے نیچے کھڑے اوپر آنے کی تیاری کر رہے تھے۔میں نے عرض کر دیا کہ حضور آپ تکلیف نہ فرماویں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کو مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی اور یہ اسی محبت کا تقاضا تھا کہ آپ مولوی صاحب کی تکلیف کو نہ دیکھ سکتے تھے چنانچہ باہر مسجد میں کئی دفعہ فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی ملاقات کو بہت دل چاہتا ہے مگر میں ان کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا۔چنانچہ آخر مولوی صاحب اسی مرض میں فوت ہو گئے مگر حضرت صاحب ان کے پاس نہیں جا سکے۔بلکہ حضرت صاحب نے مولوی صاحب کی بیماری میں اپنی رہائش کا کمرہ بھی بدل لیا تھا کیونکہ جس کمرہ میں آپ رہتے تھے وہ چونکہ مولوی صاحب کے مکان کے بالکل نیچے تھا اس لئے وہاں مولوی صاحب کے کراہنے کی آواز پہنچ جاتی تھی جو آپ کو بیتاب کر دیتی تھی۔اور مولوی صاحب مرحوم چونکہ مرض کا ربنکل میں مبتلا تھے اس لئے ان کا بدن ڈاکٹروں کی چیر پھاڑی سے چھلنی ہو گیا تھا اور وہ اس کے درد میں بے تاب ہو کر کراہتے تھے۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم حضرت صاحب کے مکان کے اس حصہ میں رہتے تھے جو مسجد مبارک کے اوپر کے صحن کے ساتھ ملحق ہے اس مکان کے نیچے خود حضرت صاحب کا رہائشی کمرہ تھا۔مولوی عبدالکریم صاحب کے علاوہ حضرت مولوی نورالدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے بھی حضرت صاحب کے مکان کے مختلف حصوں میں رہتے تھے اور شروع شروع میں جب نواب محمد علی خان صاحب قادیان آئے تھے تو ان کو بھی حضرت صاحب نے اپنے مکان کا ایک حصہ خالی کر دیا تھا۔مگر بعد میں انہوں نے خود اپنا مکان تعمیر کروالیا۔اسی طرح شروع میں مفتی محمد صادق صاحب کو بھی آپ نے اپنے مکان میں جگہ دی تھی۔مولوی محمد احسن صاحب بھی کئی دفعہ حضرت صاحب کے مکان پر ٹھہر تے تھے۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب بھی جب فیملی کے ساتھ آتے تھے تو عموماًحضرت صاحب ان کو اپنے مکان کے کسی حصہ میں ٹھہراتے تھے۔دراصل حضرت صاحب کی یہ خواہش رہتی تھی کہ اس قسم کے لوگ حتی الوسع آپ کے قریب ٹھہریں۔