سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 226

سیرت المہدی 226 حصہ اوّل حضرت صاحب نے اس پر بھی وہی جواب دیا۔وہ اسوقت کسی بات پر چڑی ہوئی بیٹھی تھیں سختی سے کہنے لگیں کہ جاؤ پھر راکھ سے روٹی کھالو۔حضرت صاحب روٹی پر راکھ ڈال کر بیٹھ گئے اور گھر میں ایک لطیفہ ہو گیا۔یہ حضرت صاحب کا بالکل بچپن کا واقعہ ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ جس وقت اس عورت نے مجھے یہ بات سنائی تھی اس وقت حضرت صاحب بھی پاس تھے۔مگر آپ خاموش رہے۔246 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کا مقدمہ تھا۔ایک دن حضرت صاحب کچہری کی طرف تشریف لے جانے لگے اور حسب معمول پہلے دعا کیلئے اس کمرہ میں گئے جو اس غرض کیلئے پہلے مخصوص کر لیا تھا۔میں اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ باہر انتظار میں کھڑے تھے اور مولوی صاحب کے ہاتھ میں اس وقت حضرت صاحب کی چھڑی تھی۔حضرت صاحب دعا کر کے باہر نکلے تو مولوی صاحب نے آپ کو چھڑی دی۔حضرت صاحب نے چھڑی ہاتھ میں لے کر اسے دیکھا اور فرمایا۔یہ کس کی چھڑی ہے؟ عرض کیا گیا کہ حضور ہی کی ہے جو حضور اپنے ہاتھ میں رکھا کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا اچھا میں نے تو سمجھا تھا کہ یہ میری نہیں ہے۔خانصاحب کہتے ہیں کہ وہ چھڑی مدت سے آپ کے ہاتھ میں رہتی تھی مگر محویت کا یہ عالم تھا کہ کبھی اس کی شکل کو غور سے دیکھا ہی نہیں تھا کہ پہچان سکیں۔خانصاحب کہتے ہیں کہ اسی طرح ایک دفعہ میں قادیان آیا اس وقت حضرت صاحب مسجد کی سیڑھیوں میں کھڑے ہو کر کسی افغان کو رخصت کر رہے تھے اور میں دیکھتا تھا کہ آپ اس وقت خوش نہ تھے کیونکہ وہ شخص افغانستان میں جا کر تبلیغ کرنے سے ڈرتا تھا۔خیر میں جا کر حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے مصافحہ کیا اور پھر گھر تشریف لے گئے۔میں اپنے کمرے میں آکر بہت رویا کہ معلوم نہیں حضرت صاحب نے مجھ میں کیا دیکھا ہے کہ معمول کے خلاف بشاشت کے ساتھ نہیں ملے۔پھر میں نماز کے وقت مسجد میں گیا تو کسی نے حضرت صاحب سے عرض کی کہ ذوالفقار علی خان آیا ہے۔حضرت صاحب نے شوق سے پوچھا کہ تحصیل دار صاحب کب آئے ہیں؟ میں جھٹ حضور کے سامنے آ گیا