سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 224
سیرت المہدی 224 حصہ اوّل نہانے کے دو تین دن بعد میں اوپر کے مکان میں چار پائی پر بیٹھی تھی اور تم میرے پاس کھڑے تھے اور پھجو ( گھر کی ایک عورت کا نام ہے) بھی پاس تھی کہ تم نے نیچے کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اماں او پائی“ میں نہ کبھی۔تم نے دو تین دفعہ دہرایا اور نیچے کی طرف اشارہ کیا جس پر پھیجو نے نیچے دیکھا تو ڈیوڑھی کے دروازے میں ایک سپاہی کھڑا تھا۔پھیجو نے اسے ڈانٹا کہ یہ زنانہ مکان ہے تو کیوں دروازے میں آ گیا ہے اتنے میں مسجد کی طرف کا دروازہ بڑے زور سے کھٹکا۔پتہ لگا کہ اس طرف سے بھی ایک سپاہی آیا ہے۔حضرت صاحب اندر دالان میں بیٹھے ہوئے کچھ کام کر رہے تھے۔میں نے محمود (حضرت خلیفہ اسیح ثانی) کو انکی طرف بھیجا کہ سپاہی آئے ہیں اور بلاتے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہو کہ میں آتا ہوں۔پھر آپ نے بڑے اطمینان سے اپنا بستہ بند کیا اور اُٹھ کر مسجد کی طرف گئے وہاں مسجد میں انگریز کپتان پولیس کھڑا تھا اور اس کے ساتھ دوسرے پولیس کے آدمی تھے۔کپتان نے حضرت صاحب سے کہا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ میں لیکھرام کے قتل کے متعلق آپ کے گھر کی تلاشی لوں۔حضرت صاحب نے کہا آئیے اور کپتان کو مع دوسرے آدمیوں کے جن میں بعض دشمن بھی تھے مکان کے اندر لے آئے اور تلاشی شروع ہوئی۔پولیس نے مکان کا چاروں طرف سے محاصرہ کیا ہوا تھا ہم عورتیں اور بچے ایک طرف ہو گئے۔سب کمروں کی باری باری تلاشی ہوئی اور حضرت صاحب کے کاغذات وغیرہ دیکھے گئے۔تلاش کرتے کرتے ایک خط نکلا جس میں کسی احمدی نے لیکھرام کے قتل پر حضرت صاحب کو مبارکباد لکھی تھی۔دشمنوں نے اسے جھٹ کپتان کے سامنے پیش کیا کہ دیکھئے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ حضرت صاحب نے کہا کہ ایسے خطوں کا تو میرے پاس ایک تھیلا رکھا ہے۔اور پھر بہت سے خط کپتان کے سامنے رکھ دیئے۔کپتان نے کہا نہیں کچھ نہیں۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ جب کپتان نیچے سرد خانے میں جانے لگا تو چونکہ اس کا دروازہ چھوٹا تھا اور کپتان لمبے قد کا آدمی تھا اس زور کے ساتھ دروازے کی چوکھٹ سے اسکا سر ٹکرایا کہ بیچارہ سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا، حضرت صاحب نے اس سے اظہار ہمدردی کیا اور پوچھا کہ گرم دودھ یا کوئی اور چیز منگوائیں ؟ اس نے کہا نہیں کوئی بات نہیں۔مگر بیچارے کو چوٹ سخت آئی تھی۔والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ حضرت صاحب اسے خود ایک کمرے سے دوسرے کی طرف لیجاتے تھے۔اور ایک ایک چیز دکھاتے تھے۔