سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 213
سیرت المہدی 213 حصہ اوّل جان کے قادیان تشریف لانے سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے۔) 226 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ داداصاحب نے طب کا علم حافظ روح اللہ صاحب باغبانپورہ لاہور سے سیکھا تھا۔اسکے بعد دہلی جا کر تکمیل کی تھی۔227 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب کی ایک لائبریری تھی جو بڑے بڑے پٹاروں میں رہتی تھی۔اور اس میں بعض کتابیں ہمارے خاندان کی تاریخ کے متعلق بھی تھیں۔میری عادت تھی کہ میں دادا صاحب اور والد صاحب کی کتابیں وغیرہ چوری نکال کر لے جایا کرتا تھا۔چنانچہ والد صاحب اور دادا صاحب بعض وقت کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں کو یہ ایک چوہا لگ گیا ہے۔228 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب سے مجھے حضرت مسیح موعود کی ایک شعروں کی کاپی ملی ہے جو بہت پرانی معلوم ہوتی ہے۔غالباً نو جوانی کا کلام ہے۔حضرت صاحب کے اپنے خط میں ہے جسے میں پہچانتا ہوں۔بعض بعض شعر بطور نمونہ درج ذیل ہیں۔۔عشق کا روگ ہے کیا پوچھتے ہو اس کی دوا ایسے بیمار کا مرنا ہی دوا ہوتا ہے کچھ مزا پایا مرے دل ! ابھی کچھ پاؤ گے تم بھی کہتے تھے کہ اُلفت میں مزا ہوتا ہے ہائے کیوں ہجر کے الم میں پڑے مفت بیٹھے بٹھائے غم میں پڑے اسکے جانے سے صبر دل سے گیا ہوش بھی ورطہ عدم میں پڑے کسی صورت سے وہ صورت دکھا دے کوئی خداوندا بنا دے سبب کرم فرما کے آ او میرے جانی بہت روئے ہیں اب ہم کو ہنسا دے کبھی نکلے گا آخر تنگ ہوکر ولا اک بار شوروغل مچادے نہ سر کی ہوش ہے تم کو نہ پا کی سمجھ ایسی ہوئی قدرت خدا کی مرے بت! اب سے پردہ میں رہو تم کہ کافر ہو گئی خلقت خدا کی