سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 212
سیرت المہدی 212 حصہ اوّل 222 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ دادا صاحب حقہ بہت پیتے تھے مگر اس میں بھی اپنی شان دکھاتے تھے یعنی جو لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوں ان کو اپنا حقہ نہیں دیتے تھے لیکن غریبوں اور چھوٹے آدمیوں سے کوئی روک نہ تھی۔223 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ دادا صاحب کا تکیہ کلام ” ہے بات کہ نہیں تھا جو جلدی میں ہے باکہ نہیں سمجھا جاتا تھا، خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کے متعلق اور بھی کئی لوگوں سے سنا گیا ہے۔224) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ قادیان میں ایک بغدادی مولوی آیا۔دادا صاحب نے اُس کی بڑی خاطر و مدارات کی۔اس مولوی نے داد ا صاحب سے کہا کہ مرزا صاحب! آپ نماز نہیں پڑھتے ؟ دادا صاحب نے اپنی کمزوری کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہاں بے شک میری غلطی ہے۔مولوی صاحب نے پھر بار بار اصرار کے ساتھ کہا اور ہر دفعہ دادا صاحب یہی کہتے گئے کہ میرا قصور ہے۔آخر مولوی نے کہا آپ نماز نہیں پڑھتے۔اللہ آپ کو دوزخ میں ڈال دے گا۔اس پر دادا صاحب کو جوش آ گیا اور کہا تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ مجھے کہاں ڈالے گا؟۔میں اللہ تعالیٰ پر ایسا بدظن نہیں ہوں میری امید وسیع ہے۔خدا فرماتا ہے لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ (الزمر: (۵۴) تم مایوس ہوگے۔میں مایوس نہیں ہوں۔اتنی بے اعتقادی میں تو نہیں کرتا۔“ پھر کہا ” اسوقت میری عمر ۷۵ سال کی ہے۔آج تک خدا نے میری پیٹھ نہیں لگنے دی تو کیا اب وہ مجھے دوزخ میں ڈال دیگا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پیٹھ لگتا پنجابی کا محاورہ ہے جس کے معنی دشمن کے مقابلہ میں ذلیل و رُسوا ہونے کے ہیں۔ورنہ ویسے مصائب تو دادا صاحب پر بہت آئے ہیں۔225 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے والدہ صاحبہ نے کہ جب سے تمہاری دادی فوت ہوئیں تمہارے دادا نے اندر زنانہ میں آنا چھوڑ دیا تھا۔دن میں صرف ایک دفعہ تمہاری پھوپھی کو ملنے آتے تھے اور پھوپھی کے فوت ہونے کے بعد تو بالکل نہیں آتے تھے۔باہر مردانے میں رہتے تھے۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ روایت حضرت والدہ صاحبہ نے کسی اور سے سنی ہوگی کیونکہ یہ واقعہ حضرت اماں