سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 211 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 211

سیرت المہدی 211 حصہ اوّل آئندہ شریف زادے ایسا قصور نہ کریں۔صاحب نے کہا جس کا باپ ایسا ادب سکھانے والا ہو اس کو سزا دینے کی ضرورت نہیں۔اور تایا صاحب کو بحال کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ تایا صاحب نے بھی بہت سے محکموں میں کام کیا ہے۔پولیس میں بھی کام کیا ہے۔ضلع کے سپر نٹنڈنٹ بھی رہے ہیں۔اور سُنا ہے نہر میں بھی کام کیا تھا اور بعض کا غذات سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری کاموں کی ٹھیکہ داری بھی کی ہے۔چنانچہ میں نے ۱۸۶۰ء کے بعض کا غذات دیکھے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تایا صاحب نے چھینہ کے پاس کسی پل کا بھی ٹھیکہ لیا تھا۔220 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ مہا راجہ شیر سنگھ کا ہندوان کے چھنب میں شکار کھیلنے کے لئے آیا۔دادا صاحب بھی ساتھ تھے۔مہاراجہ کے ایک ملازم کو جو قوم کا جولاہا تھا سخت زکام ہو گیا۔دادا صاحب نے اس کو ایک نسخہ لکھ دیا اور وہ اچھا ہو گیا۔لیکن پھر یہی بیماری خود شیر سنگھ کو ہو گئی۔اور اس نے علاج کے لئے دادا صاحب سے کہا۔دادا صاحب نے ایک بڑا قیمتی نسخہ لکھا۔شیر سنگھ نے کہا کہ جولا ہے کو دو ڈھائی پیسہ کا نسخہ اور مجھے اتنا قیمتی؟ دادا صاحب نے جواب دیا۔شیر سنگھ اور جولاہا ایک نہیں ہو سکتے۔شیر سنگھ اس جواب سے بہت خوش ہوا۔اور اُس زمانہ کے دستور کے مطابق عزت افزائی کے لئے سونے کے کڑوں کی ایک جوڑی پیش کی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ اس علاج کے بدلہ میں نہ تھی بلکہ مشرقی رؤساء اور بادشاہوں کا یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی بات پر خوش ہوتے ہیں تو ضرور کچھ چیز تقریب و انعام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔شیر سنگھ نے بھی جب ایسا برجستہ کلام سُنا تو محظوظ ہو کر اس صورت میں اظہار خوشنودی کیا۔221 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے کہ ایک دفعہ مرزا امام الدین صاحب نے دادا صاحب کے قتل کی سازش کی اور بھینی کے ایک سکھ سو چیت سنگھ کو اس کام کیلئے مقر رکیا۔مگر سوچیت سنگھ کا بیان ہے کہ میں کئی دفعہ دیوان خانہ کی دیوار پر اس نیت سے چڑھا مگر ہر دفعہ مجھے مرزا صاحب یعنی دادا صاحب کے ساتھ دو آدمی محافظ نظر آئے اس لئے میں جرات نہ کر سکا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ کوئی تصرف الٹی ہوگا۔