سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 206 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 206

سیرت المہدی 206 حصہ اوّل ہوتے ہیں۔جو آدمی رقعہ لے کر گیا تھا اس نے آکر مجھے یہ واقعہ بتایا۔اس کے بعد والد صاحب نے ایک اسے ذکر کیا کہ ہم نے تو سلطان احمد کا رقعہ پھینک دیا تھا مگر خدا نے ہمیں القاء کیا ہے کہ اس کو پاس کر دیا جاوے گا“۔اس شخص نے مجھے آکر بتا دیا چنانچہ میں امتحان میں پاس ہو گیا۔209 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ دادا صاحب نے قریباً ساٹھ سال طبابت کی۔مگر کبھی کسی سے ایک پائی تک نہیں لی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ بڑے مرزا صاحب نے کبھی علاج کے معاوضہ میں کسی سے کچھ نہیں لیا یعنی اپنی طبابت کو ہمیشہ ایک خیراتی کام رکھا اور اس کو اپنی معاش کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ بعض دفعہ بعض لوگوں نے آپ کو بہت بہت کچھ دینا چاہا مگر آپ نے انکار کر دیا۔خاکسار عرض کرتا ہے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ میاں معراج دین صاحب عمر نے اپنے مضمون میں ہمارے دادا صاحب کے متعلق یہ کس طرح لکھ دیا کہ خوش قسمتی سے طبابت کا جو ہر ہاتھ میں تھا اس کی بدولت گذارا چلتا گیا۔اور پھر یہ بات اس زمانہ کے متعلق لکھی ہے کہ جب پڑدادا صاحب کی وفات ہوئی تھی۔چه خوش یک نہ شد دو شد 210 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے کہ ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بیان کیا کہ والد صاحب رجب علی کا اخبار سفیر امرتسر اور اگنی ہوتری کا رسالہ ”ہندو بندو اور اخبار منشور محمدی منگایا اور پڑھا کرتے تھے اور مؤخر الذکر میں کبھی کبھی کوئی مضمون بھی بھیجا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آخری عمر میں حضرت صاحب اخبار عام لاہور منگایا کرتے تھے۔211 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ جس دن میں قادیان بیاہی ہوئی پہنچی تھی اسی دن مجھ سے چند گھنٹے قبل مرزا سلطان احمد اپنی پہلی بیوی یعنی عزیز احمد کی والدہ کو لے کر قادیان پہنچے تھے۔اور عزیز احمد کی والدہ مجھ سے کچھ بڑی معلوم ہوتی تھیں اور والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ فضل احمد کی شادی مرزا سلطان احمد سے بھی کئی سال پہلے ہو چکی تھی۔