سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 189
سیرت المہدی 189 حصہ اوّل ساتھ مشروط ہو گیا یعنی مرزا سلطان محمد پر عذاب کی موت آئے اور پھر محمدی بیگم حضرت صاحب کی طرف لوٹے اسی لئے جب تک محمدی بیگم کا حضرت صاحب کے عقد میں آنا رشتہ داروں کیلئے ایک رحمت کا نشان تھا۔آپ نے اس کیلئے کوشش کی اور پوری کوشش کی اور یہ کوشش آپکی صداقت اور اخلاق فاضلہ پر ایک زبر دست دلیل ہے۔لیکن جب محمدی بیگم کے دوسری جگہ نکاح ہو جانے کے بعد اُس کا آپکی طرف لوٹنا رشتہ داروں کے عذاب دیئے جانے کی علامت ہو گیا تو آپ نے معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔پس آپ کی کوششوں سے پیشگوئی کی غرض کے متعلق استدلال کرنا باطل ہے۔یہ کوشش تو محض اس لئے تھی کہ اس وقت کے حالات کے ماتحت محمدی بیگم کا آپکے نکاح میں آنا اظہار قدرت کی ایک علامت تھا۔پس آپ نے اس علامت کے پورا کرنے کی کوشش کی تا پیشگوئی کی اصل غرض یعنی قدرت نمائی وقوع میں آوے اور خصوصیت کے ساتھ کوشش اس لئے کی کہ اُس وقت کے حالات کے ماتحت محمدی بیگم کا آپ کے عقد میں آنا آپ کے رشتہ داروں کے لئے موجب رحمت و برکت تھا۔لہذا یہ کوشش تو آپ کی صداقت اور اخلاق فاضلہ اور رشتہ داروں پر رحم و شفقت کی ایک دلیل ہے نہ کہ آپ کے خلاف جائے اعتراض۔خلاصہ کلام یہ کہ یہ پیشگوئی خدا کے علم ازلی کے اظہار کے لئے نہ تھی تا بہر حال اپنی ظاہری صورت میں پوری ہوتی بلکہ اظہار قدرت کاملہ کے لئے تھی۔پس پیشگوئی کے وقت حالات موجودہ جس قسم کی قدرت نمائی کے مقتضی تھے اُس کا اظہار کیا گیا اور بعد میں حالات کے تغیر سے جو جو رستہ قدرت نمائی کا متعین ہوتا گیا اس کے مطابق اظہار قدرت ہوتا گیا۔تا یہ ثابت ہو کہ خدا کوئی مشین نہیں ہے کہ جب پہیہ چل گیا تو بس پھر جو اپنا بیگانہ سامنے آیا اُس کو پیس ڈالا کیونکہ یہ بات قدرت کاملہ کے منافی ہے۔بلکہ خدا ایک قدیر ہستی ہے۔جب کوئی شخص عذاب کا مستحق ہوتا ہے تو وہ اُسے عذاب میں گرفتار کرتا ہے اور پھر ا سے کوئی نہیں بچا سکتا اور جب وہ موجبات عذاب کو دور کر دیتا ہے تو خدا بھی اُس سے اپنا عذاب کھینچ لیتا ہے اور پھر اُسے کوئی عذاب میں نہیں ڈال سکتا اور یہی قدرت کا ملہ ہے۔باقی رہی یہ بات کہ محمدی بیگم کے نکاح کے متعلق حضرت صاحب کو بہت سے الہامات ہوئے کہ وہ تیرے نکاح میں آئے گی سو اس کا جواب گذر چکا ہے۔کہ محمدی بیگم کے نکاح کی پیشگوئی کوئی مستقل پیشگوئی نہیں بلکہ رشتہ داروں کو جو نشان دکھلا نا تھا اُس کا