سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 183 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 183

سیرت المہدی 183 حصہ اوّل یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ پیشگوئی کی غرض یہ تھی کہ علم الہی کے ماتحت محمدی بیگم حضرت صاحب کے نکاح میں آجاوے اور بس۔حالانکہ یہ غرض ہر گز نہ تھی بلکہ غرض یہ تھی کہ حضرت صاحب کے قریبی رشتہ داروں کو اقتداری نشان دکھایا جاوے اور مرزا احمد بیگ اور مرزا سلطان محمد کا ہلاک ہونا اور محمدی بیگم کا حضرت صاحب کے عقد میں آنا اس وقت کے حالات کے ماتحت اس قدرت نمائی کیلئے بطور علامات کے تھے نہ کہ مقصود بالذات۔اگر اس جگہ یہ شبہ پیدا ہو کہ حضرت صاحب کے بعض الہامات میں ہے کہ محمدی بیگم بالآخر تیری طرف لوٹائی جاوے گی اور تمام روکیں دور کی جاویں گی وغیرہ وغیرہ۔اور اس کو تقدیر مبرم کے طور پر ظاہر کیا گیا تھا تو اس کا یہ جواب ہے کہ اول تو یہ قطعی طور پر ثابت کرنا چاہیے کہ یہ سب الہامات حضرت مسیح موعود اور محمدی بیگم کے ہی متعلق ہیں۔دوسرے اگر یہ سب الہامات محمدی بیگم اور حضرت صاحب ہی کے متعلق ہوں تو پھر بھی ان کو الگ الگ مستقل الہامات سمجھنا سخت نادانی ہے۔بلکہ یہ سارے الہامات ابتدائی الہامات کے ساتھ ملحق اور اس کے ماتحت سمجھے جاویں گے۔اور ان سب کو یکجائی طور پر سامنے رکھ کر کوئی رائے قائم کرنی پڑے گی اور ابتدائی الہام کو اصل قرار دینا ہوگا اور باقی بعد کے سب الہامات گواس اصل کی شاخیں سمجھنا ہوگا۔اب اس اصول کو مد نظر رکھ کر تمام پیشگوئی پر غور کریں تو صاف پتہ لگ رہا ہے کہ حضرت صاحب کو یہ حکم تھا کہ محمدی بیگم کے متعلق سلسلہ جنبانی کر اگر انہوں نے مان لیا تو یہ ان کے واسطے ایک رحمت کا نشان ہوگا اور اگر لڑکی کا کسی دوسری جگہ نکاح کر دیا تو یہ انکے لئے ایک عذاب کا نشان ہوگا اور اس صورت میں لڑکی کا والد تین سال میں اور لڑکی کا خاوند ڈھائی سال میں مر جائیں گے۔اور لڑ کی بالآخر تیری طرف لوٹائی جاوے گی اور تمام روکیں دور کی جاویں گی وغیرہ وغیرہ۔اب ظاہر ہے کہ لڑکی کے حضرت صاحب کی طرف لوٹائے جانے اور روکوں کے دور ہونے کو مرزا سلطان محمد کے ہلاک ہونے سے تعلق ہے اور یہ باتیں اسکے ماتحت ہیں نہ کہ مستقل۔یعنی جب اس وقت کے حالات کے ماتحت مرزا سلطان محمد کی ہلاکت کی پیشگوئی ہوئی اور قدرت نمائی کو اس کی ہلاکت کی صورت کے ساتھ وابستہ کیا گیا تو اس کے نتیجہ میں جو باتیں ظہور میں آنی تھیں ان کا بھی اظہار کیا گیا۔یعنی یہ کہ مرزا سلطان محمد کی وفات ہوگی اور ان کی زندگی کی وجہ