سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 182 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 182

سیرت المہدی 182 حصہ اوّل رجوع نہ کرے یا اس قسم کے کوئی اور الفاظ ہوتے تالوگ پیشگوئی کو قطعی نہ سمجھتے۔چہارم :۔موجودہ حالات پر حکم لگا دیا جاتا پھر اگر وہ حالات قائم رہتے تو وہی حکم وقوع میں آتا اور اگر حالات بدل جاتے تو نئے حالات کے مناسب حال حکم وقوع میں آتا۔یہ وہ چار رستے تھے جو امکانا اختیار کئے جاسکتے تھے لیکن ہر ایک عقل مند سوچ سکتا ہے کہ مقدم الذکر دوطریق قدرت نمائی کے منشاء کے منافی ہیں۔کیونکہ پہلی صورت میں تو پیشگوئی قدرت نمائی کے دائرہ سے نکل کر اظہار علم ازلی کے دائرہ میں آجاتی ہے۔کیونکہ جب پیشگوئی فریق مخالف کی خاص متمردانہ حالت پر مبنی تھی تو اس صورت میں حالات کو نظر انداز کرنا اس کو قدرت نمائی کے دائرہ سے خارج کر دیتا ہے۔ہاں اگر اس کی بنیاد فریق متعلقہ کی کسی حالت پر نہ ہوتی تو پھر بے شک حالات اور ان کا تغیر نظر انداز کئے جاسکتے تھے مگر اس صورت میں پیشگوئی اظہار قدرت کیلئے نہ رہتی بلکہ علم ازلی کے اظہار کے ماتحت آجاتی اور پیشگوئی کی اصل غرض ہی فوت ہو جاتی۔اور اگر دوسرے طریق کو اختیار کیا جاتا تو یہ بات علاوہ کمال قدرت نمائی کے منافی اور سنت اللہ کے مخالف ہونے کے خدا کی مقدس ذات پر سخت اعتراض کا موجب ہوتی اور اس صورت میں بھی اصل غرض پیشگوئی کی باطل ہو جاتی۔پس لامحالہ پیشگوئی کی غرض اظہار قدرت نمائی ثابت ہونے کے بعد ہم کو مؤخر الذکر دوطریقوں میں محدود ہونا پڑے گا اور یہ دونوں طریق ایسے ہیں کہ سنت اللہ سے ثابت ہیں۔تیسرے طریق پر تو کسی جرح کی گنجائش نہیں مگر ہاں چوتھے طریق پر بادی النظر میں یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ پیشگوئی کی شرط کو تیسرے طریق کے طور پر واضح کیوں نہ کیا جاوے مخفی کیوں رکھا جائے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جب قرآن مجید کے نص صریح سے یہ شرط بطور اصول کے بیان کر دی گئی ہے کہ حالات کے بدلنے سے اقتداری پیشگوئیوں میں قدرت نمائی کی صورت بدل جاتی ہے اور عقل انسانی کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ ایسا ہونا چاہیے کیونکہ اگر یہ نہ مانا جاوے تو اصل غرض فوت ہو کر خدا کی بعض صفات کا انکار کرنا پڑتا ہے تو پھر ہر گز ضروری نہیں کہ یہ شرط ہر پیشگوئی میں واضح طور پر بیان کی جاوے۔خصوصاً جب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ایمان کے راستے میں خدا کی یہ سنت ہے کہ بعض اخفا کے پردے بھی رکھے جاتے ہیں اور ایمان کے ابتدائی مدارج میں شہود کا رنگ نہیں پیدا کیا جاتا اور یہاں تو پیشگوئی کے الفاظ ہی اس کے شرطی ہونے کو ظاہر کر رہے ہیں۔خلاصہ کلام یہ کہ سارا اعتراض پیشگوئی کی غرض نہ سمجھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے کیونکہ بدقسمتی سے