سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 176
مرت المهدی 176 حصہ اوّل اچھا کر دیں۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جب یہ فرمایا تو پادریوں کی ہوائیاں اُڑ گئیں اور انہوں نے جھٹ اشارہ کر کے ان لوگوں کو وہاں سے رخصت کروا دیا۔میر صاحب بیان کرتے ہیں کہ وہ نظارہ بھی نہایت عجیب تھا کہ پہلے تو عیسائیوں نے اتنے شوق سے ان لوگوں کو پیش کیا اور پھر ان کو خود ہی ادھر ادھر چھپانے لگ گئے۔177 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے خلیفہ نورالدین صاحب جمونی نے کہ آتھم کے مباحثہ میں میں بھی لکھنے والوں میں سے تھا۔آخری دن جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آتھم کی پیشگوئی کا اعلان فرمایا تو آتھم نے خوفزدہ ہو کر کانوں کی طرف ہاتھ اٹھائے اور دانتوں میں انگلی لی اور کہا کہ میں نے تو دجال نہیں کہا۔178 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے ڈاکٹر میرمحمد اسماعیل صاحب نے کہ ایک دفعہ میاں (یعنی خلیفہ مسیح ثانی ) دالان کے دروازے بند کر کے چڑیاں پکڑ رہے تھے کہ حضرت صاحب نے جمعہ کی نماز کیلئے باہر جاتے ہوئے ان کو دیکھ لیا اور فرمایا میاں گھر کی چڑیاں نہیں پکڑا کرتے۔جس میں رحم نہیں اس میں ایمان نہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض باتیں چھوٹی ہوتی ہیں مگر ان سے کہنے والے کے اخلاق پر بڑی روشنی پڑتی ہے۔179 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ ایک دفعہ حضرت صاحب جالندھر جا کر قریباً ایک ماہ ٹھہرے تھے اور ان دنوں میں محمدی بیگم کے ایک حقیقی ماموں نے محمدی بیگم کا حضرت صاحب سے رشتہ کر دینے کی کوشش کی تھی۔مگر کامیاب نہیں ہوا۔یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری زندہ تھا اور ابھی محمدی بیگم کا مرزا سلطان محمد سے رشتہ نہیں ہوا تھا۔محمدی بیگم کا یہ ماموں جالندھر اور ہوشیار پور کے درمیان یکہ میں آیا جایا کرتا تھا۔اور وہ حضرت صاحب سے کچھ انعام کا بھی خواہاں تھا اور چونکہ محمدی بیگم کے نکاح کا عقدہ زیادہ تر اسی شخص کے ہاتھ میں تھا۔اس لئے حضرت صاحب نے اس سے کچھ انعام کا وعدہ بھی کر لیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ شخص اس معاملہ