سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 169
سیرت المہدی 169 حصہ اوّل جب ان کا کرب اور گھبراہٹ انتہا کو پہنچ گئے تو ان کے دوستوں نے ان کو بہت سی شراب پلا کر بے ہوش کر دیا۔آخری رات آتھم نے اسی حالت میں گزاری۔صبح ہوئی تو ان کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنا کر اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر خوشی کا جلوس پھرایا اور اس دن لوگوں میں شور تھا کہ مرزے کی پیشگوئی جھوٹی گئی۔مگر کورٹ انسپکٹر صاحب بیان کرتے تھے کہ ہم سمجھتے تھے کہ جو حالت ہم نے آتھم صاحب کی دیکھی ہے اس سے تو وہ مرجاتے تو اچھا تھا۔اور خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھ سے ماسٹر قادر بخش صاحب لدھیانوی نے بیان کیا کہ آتھم کی پندرہ ماہی میعاد کے دنوں میں لدھیانہ میں لوئیس صاحب ڈسٹرکٹ جج تھا۔آٹھم چونکہ لوئیس صاحب کا داماد تھا اس لئے لدھیانہ میں لوئیس صاحب کی کوٹھی پر آکر ٹھہرا کرتا تھا۔ایک دفعہ دوران میعاد میں آتھم لدھیانہ میں آیا۔ان دنوں میں میرا ایک غریب غیر احمدی رشتہ دار لوئیس صاحب کے پاس نو کر تھا اور آٹھم کے کمرے کا پنکھا کھینچا کرتا تھا۔ایک دن میں نے اس سے پوچھا کہ تم آتھم کا پنکھا کھینچا کرتے ہو۔کبھی اس کے ساتھ کوئی بات بھی کی ہے۔اس نے کہا صاحب ( یعنی آتھم ) رات کو روتا رہتا ہے۔چنانچہ اس پر میں نے ایک دفعہ صاحب سے پوچھا تھا کہ آپ روتے کیوں رہتے ہیں تو صاحب نے کہا تھا کہ مجھے تلواروں والے نظر آتے ہیں۔میں نے کہا تو پھر آپ ان کو پکڑوا کیوں نہیں دیتے۔صاحب نے کہا وہ صرف مجھے ہی نظر آتے ہیں اور کسی کو نظر نہیں آتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آتھم والی پیشگوئی کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف میں اکثر جگہ آچکا ہے۔دراصل جس وقت حضرت مسیح موعود نے مباحثہ کے اختتام پر آتھم کے متعلق پندرہ ماہ کے اندر ہاویہ میں گرائے جانے کی پیشگوئی کا اظہار کیا تھا۔اس وقت سے ہی آتھم کے اوسان خطا ہونے شروع ہو گئے تھے۔چنانچہ سب سے پہلے تو آتھم نے اسی مجلس میں جبکہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ آتھم نے اپنی کتاب میں آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ دجال کہا ہے۔اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر اور ایک خوف زدہ انسان کی طرح زبان باہر نکال کر کہا کہ نہیں میں نے تو نہیں کہا۔حالانکہ وہ اپنی کتاب اندرونہ بائیبل میں دجال کہہ چکا تھا۔اس وقت مجلس میں قریب ستر آدمی مختلف مذاہب کے پیر وموجود تھے۔اسکے بعد میعاد کے اندر آتھم