سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 168 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 168

سیرت المہدی 168 حصہ اوّل چالیسویں دن غربا میں کھانا تقسیم کرنے میں یہ حکمت ہے کہ یہ مردے کی روح کے رخصت ہونے کا دن ہے۔پس جس طرح لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے کچھ دیا جاتا ہے اسی طرح مردے کی روح کی رخصت پر بھی غرباء میں کھانا دیا جاتا ہے۔تا اسے اس کا ثواب پہنچے۔گویا روح کا تعلق اس دنیا سے پورے طور پر چالیس دن میں قطع ہوتا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ صرف حضرت صاحب نے اس رسم کی حکمت بیان کی تھی ورنہ آپ خود ایسی رسوم کے پابند نہ تھے۔173 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ جس سال پہلا جلسہ سالا نہ ہوا تھا اس میں حضرت صاحب نے جو تقریر فرمائی تھی۔اس سے پہلے حضرت صاحب نے میرے متعلق بھی یہ فرمایا تھا کہ میاں عبد اللہ سنوری ہمارے اس وقت کے دوست ہیں جبکہ ہم گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے اور یہ ذکر میں نے اس لئے کیا ہے کہ تا آپ لوگ ان سے واقف ہو جاویں۔پھر اس کے بعد تقریر شروع فرمائی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ پہلا جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں ہوا تھا۔) 174 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبد اللہ صاحب سنوری نے کہ حضرت صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے۔خدا داری غم داری چه 175 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں فخر الدین صاحب ملتانی نے کہ جب میں ۱۹۱۰ء میں نور پور ضلع کانگڑہ میں تھا تو ضلع کانگڑہ کے کورٹ انسپکٹر آف پولیس نے بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ میری بھی دعوت کی۔کورٹ انسپکٹر صاحب غیر احمدی تھے مگر شریف اور متین آدمی تھے اور نماز کے پابند تھے۔انہوں نے دوران گفتگو میں بیان کیا کہ جب آتھم کی پندرہ ماہی میعاد کا آخری دن تھا تو اس وقت ان کی کوٹھی کے پہرہ کا انتظام میرے سپر د تھا۔کوٹھی کے اندر آتھم کے دوست پادری وغیرہ تھے اور باہر پولیس کا چاروں طرف پہرہ تھا۔اس وقت آتھم کی حالت سخت گھبراہٹ کی تھی۔اور بالکل مخبوط الحواسی کی سی صورت ہو رہی تھی۔باہر دور سے اتفاقا کسی بندوق کے چلنے کی آواز آئی تو آتھم صاحب کی حالت دگرگوں ہوگئی۔آخر