سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 147
سیرت المہدی 147 حصہ اوّل حضرت صاحب نے اپنی کتب میں اس پیشگوئی کی صداقت کے متعلق بھی لالہ ملا وامل کو شہادت کے لئے بلایا ہے۔153 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول کے بعض شاگردوں کے متعلق بدکاری کا شبہ ہوا اور یہ خبر حضرت صاحب تک بھی جا پہنچی۔حضور نے حکم دیا کہ وہ طالب علم فوراً قادیان سے چلے جاویں۔مولوی صاحب نے حضرت صاحب کے سامنے بطور سفارش کہا کہ حضور صرف شبہ کیا گیا ہے کوئی بات ثابت تو نہیں ہوئی۔حضرت صاحب نے فرمایا مولوی صاحب ہم بھی تو ان کو شرعی حد نہیں لگا رہے بلکہ جب ایسی افواہ ہے اور شبہ پیدا ہوا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ احتیاطاً ان کو قادیان سے رخصت کر دینا چاہیے۔مگر ہم ان پر کوئی شرعی الزام نہیں رکھتے۔154 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں میں سخت غیر مقلد تھا اور رفع یدین اور آمین بالجہر کا بہت پابند تھا اور حضرت صاحب کی ملاقات کے بعد بھی میں نے یہ طریق مدت تک جاری رکھا۔عرصہ کے بعد ایک دفعہ جب میں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی تو نماز کے بعد آپ نے مجھ سے مسکرا کر فرمایا میاں عبد اللہ اب تو اس سنت پر بہت عمل ہو چکا ہے اور اشارہ رفع یدین کی طرف تھا۔میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ اس دن سے میں نے رفع یدین کرنا ترک کر دیا بلکہ آمین بالجہر کہنا بھی چھوڑ دیا اور میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت صاحب کو کبھی رفع یدین کرتے یا آمین بالجہر کہتے نہیں سنا اور نہ کبھی بسم الله بالجھر پڑھتے سنا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طریق عمل وہی تھا جو میاں عبداللہ صاحب نے بیان کیا لیکن ہم احمدیوں میں حضرت صاحب کے زمانہ میں بھی اور آپ کے بعد بھی یہ طریق عمل رہا ہے کہ ان باتوں میں کوئی ایک دوسرے پر گرفت نہیں کرتا بعض آمین بالجہر کہتے ہیں بعض نہیں کہتے بعض رفع یدین کرتے ہیں اکثر نہیں کرتے بعض بسم الله بالجهر پڑھتے ہیں اکثر نہیں پڑھتے اور حضرت صاحب فرماتے تھے کہ دراصل یہ تمام طریق آنحضرت ﷺ سے ثابت ہیں مگر جس طریق پر آنحضرت ﷺ نے کثرت کے