سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 136 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 136

سیرت المہدی 136 حصہ اوّل سب سیر ہو گئے۔حالانکہ ہم بہت سے آدمی تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے تعجب آیا کرتا ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے کا دم بھرنے والے لوگ خوارق کے ظہور کے متعلق کیوں شک کرتے ہیں۔جب یہ بات مان لی گئی ہے کہ ایک قادر مطلق خدا موجود ہے جس کے قبضہ تصرف میں یہ سارا عالم ہے۔اور جو اشیاء اور خواص اشیاء کا خالق و مالک ہے تو پھر خوارق کا وجود کس طرح مشتبہ ہوسکتا ہے کیونکہ وہ خدا جس نے مثلاً کھانے میں یہ خاصیت ودیعت کی تھی کہ اس قدر کھانا ایک آدمی کے لئے کافی ہو۔کیا وہ اپنی تقدیر خاص سے کسی مصلحت کی بنا پر اس میں وقتی طور پر یہ خاصیت نہیں رکھ سکتا کہ وہی کھانا مثلاً دس آدمی کا پیٹ بھر دے یا نہیں آدمی کو سیر کر دے؟ اگر اشیاء کے خواص خدا کی طرف سے قائم شدہ تسلیم کئے جاویں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ بعض مصالح کے ماتحت ان میں وقتی طور پر تغیر تبدل پر خدا کیوں نہیں قادر ہو سکتا اگر وہ قادر مطلق ہے تو ہر اک امر جو قدرت کے نام سے موسوم ہو سکتا ہے اس کے اندر تسلیم کرنا پڑے گا۔اسی طرح باقی تمام صفات کا حال ہے اور یہ جو ہم کو تعلیم دی گئی ہے کہ تقدیر پر ایمان لاؤ تو اس سے مراد یہی ہے کہ ہم اس بات پر ایمان لائیں کہ نہ صرف یہ کہ خواص الاشیاء تمام خدا کی طرف سے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ اپنی تقدیر خاص سے ان میں تغیر تبدل بھی کر سکتا ہے گویا ہم تقدیر عام اور تقدیر خاص ہر دو پر ایمان لائیں یعنی اول ہم یہ ایمان لائیں کہ مثلاً آگ میں جو جلانے کی صفت ہے یہ خود بخود نہیں بلکہ خدائی حکم کے ماتحت ہے اور پھر ہم یہ ایمان لائیں کہ خدا تعالیٰ جب چاہے اس کی اس صفت کو مبدل معطل یا منسوخ کر سکتا ہے اور پھر ہم یہ بھی ایمان لائیں کہ اپنی ہستی کو محسوس و مشہور کرانے کے لئے خدا تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے ذریعہ بعض اوقات ایسا کرتا بھی ہے اور دنیا کو اپنی تقدیر خاص کے جلوے دکھاتا ہے کیونکہ ایمان باللہ اس کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتا۔مگر یہ یاد رکھنا چاہئیے کہ خدا کا کوئی فعل عبث نہیں ہوتا بلکہ حکمتوں پر مبنی ہوتا ہے۔اس لئے جب خدائی مصلحت تقاضا کرتی ہے تب ہی کوئی خارق عادت امر ظا ہر ہوتا ہے اور پھر اسی طریق پر ظاہر ہوتا ہے جس طرح وہ چاہتا ہے یہ نہیں کہ نشان کا طالب جب چاہے اور جس طریق پر چاہے اسی طریق پر نشان ظاہر ہو۔خدا کسی کا محتاج نہیں بندے اس کے محتاج ہیں اور ضرورت کا فیصلہ کرنا بھی اسی کا کام ہے۔147 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے چوہدری حاکم علی صاحب نے کہ ایک دفعہ کسی ہندو نے