سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 132 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 132

سیرت المہدی 132 حصہ اوّل سے کسی شخص کو تو کہتے نہیں سنا۔موافق ہو یا مخالف۔غریب سے غریب اور چھوٹے سے چھوٹا بھی ہوتا تھا تو حضرت صاحب اسے ہمیشہ آپ کے لفظ سے مخاطب کرتے تھے۔مگر اس وقت اس شخص کو آپ نے خلاف عادت تو “ کا لفظ کہا۔اور ہم سب نے اس بات کو عجیب سمجھ کر محسوس کیا۔(خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر حضرت مولوی شیر علی صاحب کو اس لفظ کے سننے میں غلطی نہیں لگی تو یہ لفظ حضرت صاحب نے کسی خاص مصلحت سے استعمال فرمایا ہو گا۔یا یہ بھی ممکن ہے کہ جلدی میں سہوا نکل گیا ہو۔) 143 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سیدمحمد سرور شاہ صاحب نے کہ جب منشی احمد جان حب مرحوم لدھیانوی پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملے تو حضرت صاحب نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے جس طریق کو اختیار کیا ہے اس میں خاص کیا کمال ہے۔منشی صاحب نے کہا میں جس شخص پر توجہ ڈالوں تو وہ بے تاب ہو کر زمین پر گر جاتا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو پھر نتیجہ کیا ہوا؟ منشی صاحب موصوف کی طبیعت بہت سعید اور ذہین واقع ہوئی تھی بس اسی نکتہ سے ان پر سب حقیقت کھل گئی اور وہ اپنا طریق چھوڑ کر حضرت صاحب کے معتقد ہو گئے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ قرون اولی کے بعد اسلام میں صوفیوں کے اندر توجہ کے علم کا بڑا چرچا ہو گیا تھا۔اور اس کو روحانیت کا حصہ سمجھ لیا گیا تھا حالانکہ یہ علم دنیا کے علوم میں سے ایک علم ہے جسے روحانیت یا اسلام سے کوئی خاص تعلق نہیں اور مشق سے ہر شخص کو خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم اپنی استعداد کے مطابق حاصل ہو سکتا ہے اور تعلق باللہ اور اصلاح نفس کے ساتھ اسے کوئی واسطہ نہیں۔لیکن چونکہ نیک لوگ اپنی قلبی توجہ سے دوسرے کے دل میں ایک اثر پیدا کر دیتے تھے جس سے بعض اوقات وقتی طور پر وہ ایک سرور محسوس کرتا تھا اس لئے اسے روحانیت سمجھ لیا گیا اور چونکہ فیج اغوج کے زمانہ میں حقیقی تقوی وطہارت اور اصلاح نفس اور تعلق باللہ بالعموم معدوم ہو چکا تھا اور علمی طور پر توجہ کے فلسفہ کو بھی دنیا ابھی عام طور پر نہیں بھی تھی اس لئے یہ باتیں طبقہ صوفیا میں رائج ہوگئیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کا اثر اتنا وسیع ہوا کہ بس انہی کو روحانی کمال سمجھ لیا گیا اور اصل روح جس کی بقا کے واسطے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھ کر اس جسم کو ابتدا میں اختیار کیا گیا تھا نظر سے اوجھل اور دل سے محو ہو گئی لیکن مسیح موعود کے