سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 115 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 115

سیرت المہدی 115 حصہ اوّل غرض اس مدت تک روزہ رکھنے سے جو میرے پر عجائبات ظاہر ہوئے وہ انواع اقسام کے مکاشفات تھے۔ایک اور فائدہ مجھے یہ حاصل ہوا کہ میں نے ان مجاہدات کے بعد اپنے نفس کو ایسا پایا کہ میں وقت ضرورت فاقہ کشی پر زیادہ سے زیادہ صبر کر سکتا ہوں۔میں نے کئی دفعہ خیال کیا کہ اگر ایک موٹا آدمی جو علاوہ فربہی کے پہلوان بھی ہو میرے ساتھ فاقہ کشی کے لئے مجبور کیا جاوے تو قبل اس کے کہ مجھے کھانے کے لئے کچھ اضطرار ہو وہ فوت ہو جائے۔اس سے مجھے یہ بھی ثبوت ملا کہ انسان کسی حد تک فاقہ کشی میں ترقی کر سکتا ہے اور جب تک کسی کا جسم ایسا حتی کش نہ ہو جائے میرا یقین ہے کہ ایسا تم پسند روحانی منازل کے لائق نہیں ہوسکتا۔لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی سے ایسا کیا۔۔۔۔۔بہتر ہے کہ انسان اپنے نفس کی تجویز سے اپنے تئیں مجاہدہ شدیدہ میں نہ ڈالے اور دین العجائز اختیا ر کھے۔آج کل کے اکثر نادان فقیر جو مجاہدات سکھلاتے ہیں ان کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔پس ان سے پر ہیز کرنا چاہیے۔“ ( منقول از کتاب البریه صفحه ۱۳۴ تا ۱۶۶ حاشیه ) (خاکسار عرض کرتا ہے کہ کتاب البریہ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مندرجہ ذیل تصانیف میں اپنے خاندانی حالات کا ذکر کیا ہے۔ازالہ اوہام۔آئینہ کمالات اسلام حصہ عربی۔استفتاء عربی۔لجبۃ النور۔تریاق القلوب - کشف الغطا۔شہادت القرآن - تحفہ قیصریہ۔ستارہ قیصریہ نجم الہدی۔اشتہار ۱۸۹۴ء) 130 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ بندوبست مال ۱۸۶۵ء کے کاغذات کے ساتھ جو ہمارے خاندان کا شجرہ نسب منسلک ہے اس میں قصبہ قادیان کی آبادی اور وجہ تسمیہ کے عنوان کے نیچے ثبت دستخط مرزا غلام مرتضی صاحب و مرزا غلام جیلانی و مرزا غلام محی الدین وغیرہ یہ نوٹ درج ہے کہ : عرصہ چودہ پشت کا گزرا۔کہ مرزا ہادی بیگ قوم مغل گوت بر لاس مورث اعلیٰ ہم مالکان دیہہ کا بعہد شاہان سلف ملک عرب سے بطریق نوکری ہمراہ بابر شاہ بادشاہ کے آکر حسب اجازت شاہی اس جنگل افتادہ میں گاؤں آباد کیا۔وجہ تسمیہ یہ ہے کہ مورثان ہمارے کو جانب بادشاہ سے عہدہ قضا کا عطا ہوا تھا۔باعث لقب قاضیاں کے نام گاؤں کا قاضیان اسلام پورہ رکھا پھر رفتہ رفتہ غلطی عوام الناس سے قصبہ قادیان