سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 108

سیرت المہدی 108 حصہ اوّل جو رام گڑھیہ کہلاتا تھا اوّل فریب کی راہ سے اجازت لے کر قادیان میں داخل ہوا اور پھر قبضہ کر لیا۔اس وقت ہمارے بزرگوں پر بڑی تباہی آئی اور اسرائیلی قوم کی طرح وہ اسیروں کی مانند پکڑے گئے۔اوران کے مال و متاع سب لوٹی گئی۔کئی مسجدیں اور عمدہ عمدہ مکانات مسمار کئے گئے اور جہالت اور تعصب سے باغوں کو کاٹ دیا گیا۔اور بعض مسجدیں جن میں سے اب تک ایک مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے دھرم سالہ یعنی سکھوں کا معبد بنایا گیا۔اس دن ہمارے بزرگوں کا ایک کتب خانہ بھی جلایا گیا۔جس میں پانچ سونسخہ قرآن شریف کا قلمی تھا۔جو نہایت بے ادبی سے جلایا گیا۔اور آخرسکھوں نے کچھ سوچ کر ہمارے بزرگوں کو نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ تمام مردوزن چھکڑوں میں بٹھا کر نکالے گئے۔اور وہ پنجاب کی ایک ریاست میں پناہ گزیں ہوئے۔تھوڑے عرصہ کے بعد ان ہی دشمنوں کے منصوبے سے میرے دادا صاحب کو زہر دی گئی۔پھر رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں میرے والد صاحب مرحوم مرزا غلام مرتضی قادیان میں واپس آئے اور مرزا صاحب موصوف کو اپنے والد صاحب کے دیہات میں سے پانچ گاؤں واپس ملے کیونکہ اس عرصہ میں رنجیت سنگھ نے دوسری اکثر چھوٹی چھوٹی ریاستوں کو دبا کر ایک بڑی ریاست اپنی بنالی تھی۔سو ہمارے تمام دیہات بھی رنجیت سنگھ کے قبضہ میں آگئے تھے۔اور لاہور سے لے کر پشاور تک اور دوسری طرف لدھیانہ تک اس کی ملک داری کا سلسلہ پھیل گیا تھا۔غرض ہماری پرانی ریاست خاک میں ملکر آخر پانچ گاؤں ہاتھ میں رہ گئے۔پھر بھی بلحاظ پرانے خاندان کے میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ اس نواح میں ایک مشہور رئیس تھے۔گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں کے ہمیشہ بلائے جاتے تھے۔۱۸۵۷ء میں انہوں نے سر کار انگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے مع پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دیئے تھے اور آئندہ گورنمنٹ کو اس قسم کی مدد کا عند الضرورت وعدہ بھی دیا۔اور سرکار انگریزی کے حکام وقت سے بجلد وے خدمات عمدہ عمدہ چٹھیات خوشنودی مزاج ان کو ملی تھیں۔چنانچہ سرلیپل گریفن صاحب نے بھی اپنی کتاب تاریخ در یکسان پنجاب میں ان کا تذکرہ کیا ہے۔غرض وہ حکام کی نظر میں بہت ہر دل عزیز تھے۔اور بسا اوقات ان کی دلجوئی کیلئے حکام وقت ڈپٹی کمشنر، کمشنر اُن کے مکان پر آکر ان کی ملاقات کرتے تھے۔یہ مختصر میرے خاندان کا حال ہے۔میں ضروری نہیں دیکھتا کہ