سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 107 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 107

سیرت المہدی 107 حصہ اوّل جو غیاث الدولہ کے نام سے مشہور تھا اور اس نے مرزا گل محمد صاحب کے مدبرانہ طریق اور بیدار مغزی اور ہمت اور اولوالعزمی اور استقلال اور فہم اور حمایت اسلام اور جوش نصرت دین اور تقویٰ اور طہارت اور دربار کے وقار کو دیکھا اور ان کے اُس مختصر در بار کو نہایت متین اور عقلمند اور نیک چلن اور بہادروں سے پر پایا تب وہ چشم پر آب ہو کر بولا کہ اگر مجھے پہلے خبر ہوتی کہ اس جنگل میں خاندان مغلیہ میں سے ایسا مرد موجود ہے جس میں صفات ضرور یہ سلطنت کے پائے جاتے ہیں۔تو میں اسلامی سلطنت کے محفوظ رکھنے کے لئے کوشش کرتا کہ ایام کسل اور نالیاقتی اور بد وضعی ملوک چغتائیہ میں اس کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے۔اس جگہ اس بات کا لکھنا بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ میرے پڑ دادا صاحب موصوف یعنی مرز اگل محمد نے ہچکی کی بیماری سے جس کے ساتھ اور عوارض بھی تھے وفات پائی تھی۔بیماری کے غلبہ کے وقت اطبا نے اتفاق کر کے کہا کہ اس مرض کے لئے اگر چند روز شراب کو استعمال کرایا جائے تو غالبا اس سے فائدہ ہوگا۔مگر جرأت نہیں رکھتے تھے کہ ان کی خدمت میں عرض کریں۔آخر بعض نے ان میں سے ایک نرم تقریر میں عرض کر دیا۔تب انہوں نے کہا کہ اگر خدا تعالیٰ کو شفا دینا منظور ہو تو اس کی پیدا کردہ اور بہت سی دوائیں ہیں۔میں نہیں چاہتا کہ اس پلید چیز کو استعمال کروں اور میں خدا کے قضا و قدر پر راضی ہوں۔آخر چند روز کے بعد اسی مرض سے انتقال فرما گئے۔موت تو مقدر تھی مگر یہ ان کا طریق تقویٰ ہمیشہ کے لئے یاد گار رہا کہ موت کو شراب پر اختیار کر لیا اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب میرے پڑ دادا صاحب فوت ہوئے تو بجائے ان کے میرے دادا صاحب یعنی مرزا عطا محمد فرزند رشید ان کے گدی نشین ہوئے۔ان کے وقت میں خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے لڑائی میں سکھ غالب آئے۔دادا صاحب مرحوم نے اپنی ریاست کی حفاظت کے لئے بہت تدبیریں کیں مگر جبکہ قضا و قدر ان کے ارادہ کے موافق نہ تھی اس لئے ناکام رہے۔اور کوئی تدبیر پیش نہ گئی۔اور روز بروز سکھ لوگ ہماری ریاست کے دیہات پر قبضہ کرتے گئے۔یہاں تک کہ دادا صاحب مرحوم کے پاس صرف ایک قادیان رہ گئی۔اور قادیان اس وقت ایک قلعہ کی صورت پر قصبہ تھا۔اور اس کے چار برج تھے۔اور بر جوں میں فوج کے آدمی رہتے تھے۔اور چند تو ہیں تھیں اور فصیل بائیس فٹ کے قریب اونچی اور اس قدر چوڑی تھی کہ تین چھکڑے آسانی سے ایک دوسرے کے مقابل اس پر جاسکتے تھے۔اور ایسا ہوا کہ ایک گروہ سکھوں کا