سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 101 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 101

سیرت المہدی 101 حصہ اوّل مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ مرزا صاحب یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے ایک صندوقچی کھول کر دکھائی تھی جس میں ان کی ایک کتاب کا مسودہ رکھا ہوا تھا اور آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ بس میری جائیداد اور مال سب یہی ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ براہین احمدیہ کے مسودہ کا ذکر ہے۔125 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ پیر سراج الحق صاحب کو روز وفقا نگران کو یاد نہ رہا اور انہوں نے کسی شخص سے پینے کے واسطے پانی منگایا۔اس پر کسی نے کہا آپ کو روزہ نہیں ؟ پیر صاحب کو یاد آ گیا کہ میرا روزہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس وقت وہاں موجود تھے آپ پیر صاحب سے فرمانے لگے کہ روزہ میں جب انسان بھول کر کوئی چیز کھا پی لیتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے اس کی مہمانی ہوتی ہے۔لیکن آپ نے جو پانی کے متعلق سوال کیا اور سوال کرنا نا پسندیدہ ہوتا ہے تو اس سوال کی وجہ سے آپ اس نعمت سے محروم ہو گئے۔126 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے میاں عبداللہ صاحب سنوری نے کہ میں جب پہلی دفعہ قادیان آیا تو حضرت صاحب نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارے والد صاحب کا کیا حال ہے؟ میں نے کہا حضور آپ نے کس کا نام لے دیا میرا والد تو بہت بُرا آدمی ہے۔شراب پیتا ہے اور بُری بُری عادتیں ہیں حضرت صاحب نے فرمایا تو بہ کر واپنے والد کے متعلق ایسا نہیں کہنا چاہئیے۔پھر آپ نے مجھے یہ حدیث سنائی کہ بعض اوقات ایک آدمی برے اعمال کرتے کرتے دوزخ کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے لیکن پھر وہ وہاں سے واپس ہوتا ہے اور نیک اعمال شروع کرتا ہے اور آخر جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔میاں عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد میرے والد صاحب کی حالت میں تغیر آیا اور پھر آخران کا انجام نہایت اچھا ہوا اور حضرت مسیح موعود کے ساتھ ان کی عشق کی سی حالت ہوگئی تھی۔127 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حقیقی ہمشیرہ مراد بی بی مرزا غلام غوث ہوشیار پوری کے ساتھ بیاہی گئی تھی مگر مرزا محمد بیگ جلد فوت ہو گیا اور ہماری پھوپھی کو باقی ایام زندگی بیوگی کی حالت میں گزارنے پڑے۔ہماری پھوپھی صاحب رؤیا و کشف تھیں۔