سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 100
سیرت المہدی 100 حصہ اوّل ضروری حواشی بھی زائد کرتے جاویں۔چنانچہ اب جو براہین احمدیہ کی چارجلد میں شائع شدہ موجود ہیں ان کا مقدمہ اور حواشی وغیرہ سب دوران اشاعت کے زمانہ کے ہیں اور اس میں اصل ابتدائی تصنیف کا حصہ بہت ہی تھوڑا آیا ہے یعنی صرف چند صفحات سے زیادہ نہیں۔اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ تین سو دلائل جو آپ نے لکھے تھے ان میں سے مطبوعہ براہین احمدیہ میں صرف ایک ہی دلیل بیان ہوئی ہے اور وہ بھی نامکمل طور پر۔ان چار حصوں کے طبع ہونے کے بعد اگلے حصص کی اشاعت خدائی تصرف کے ماتحت رک گئی اور سنا جاتا ہے کہ بعد میں اس ابتدائی تصنیف کے مسودے بھی کسی وجہ سے جل کر تلف ہو گئے۔حضرت مسیح موعود نے براہین احمدیہ حصہ چہارم کے آخر میں جو اشتہار ” ہم اور ہماری کتاب“ کے عنوان کے نیچے دیا ہے اس میں آپ نے بیان فرمایا ہے کہ ابتدا میں جب براہین احمدیہ تصنیف کی گئی تو اور صورت تھی مگر بعد میں یعنی دوران اشاعت میں جب حواشی وغیرہ لکھے جا رہے تھے اور کتاب طبع ہو کر شائع ہورہی تھی صورت بدل گئی یعنی جناب باری تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خلعت ماموریت عطا ہوا اور ایک اور عالم سے آپ کو اطلاع دی گئی اس پر آپ نے اپنے پہلے ارادوں کو ترک کر دیا اور سمجھ لیا کہ اب معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جس طرح چاہے گا آپ سے خدمت دین کا کام لے گا۔چنانچہ یہ جو اس کے بعد اسی کے قریب کتابیں اور سینکڑوں اشتہارات اور تقریریں آپ کی طرف سے خدمت دین کے راستہ میں شائع ہوئیں اور اب آپ کی وفات کے بعد بھی جو خدمت دین آپ کے متبعین کی طرف سے ہورہی ہے یہ سب اسی کا نتیجہ ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسلام کی جتنی صداقت ان تین سو دلائل سے ثابت ہوتی جو آپ نے براہین احمدیہ میں تحریر فرمائے تھے اس سے کہیں بڑھ کر محض آپ کے وجود سے ہوئی جس کا ظہور بعد میں مہدویت اور مسیحیت کے رنگ میں ہوا۔گویا قطع نظر ان عظیم الشان تحریرات کے جو بعد میں خداوند تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ سے شائع کر وا ئیں محض آپ کا وجود باجود ہی ان تین سو دلائل سے بڑھ کر صداقت اسلام پر روشنی ڈالنے والا ہے کیونکہ یہ تین سو دلائل تو بہر حال زیادہ تر عام عالمانہ رنگ میں لکھے گئے ہو نگے لیکن آپ کا وجود جوشان نبوت میں ظاہر ہوا اپنے اندر اور ہی جذب اور طاقت رکھتا ہے۔124 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ ایک دفعہ لالہ ملاوامل نے