سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 4 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 4

سیرت المہدی 4 حصہ اوّل اس کے کہ بیماری یا کسی اور وجہ سے آپ رُک جاویں۔3 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز پنجگانہ کے سوا عام طور پر دو قسم کے نوافل پڑھا کرتے تھے ایک نماز اشراق ( دو یا چار رکعات) جو آپ کبھی کبھی پڑھتے تھے اور دوسرے نماز تہجد ( آٹھ رکعات) جو آپ ہمیشہ پڑھتے تھے سوائے اس کے کہ آپ زیادہ بیمار ہوں لیکن ایسی صورت میں بھی آپ تہجد کے وقت بستر پر لیٹے لیٹے ہی دعا مانگ لیتے تھے۔اور آخری عمر میں بوجہ کمزوری کے عموماً بیٹھ کر نماز تہجد ادا کرتے تھے۔4 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عام طور پر صبح کی نماز کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے کیونکہ رات کا زیادہ حصہ آپ جاگ کر گزارتے تھے جس کی وجہ یہ تھی کہ اول تو آپ کو اکثر اوقات رات کے وقت بھی مضامین لکھنے پڑتے تھے جو آپ عموماً بہت دیر تک لکھتے تھے دوسرے آپ کو پیشاب کے لئے بھی کئی دفعہ اُٹھنا پڑتا تھا اس کے علاوہ نماز تہجد کے لئے بھی اُٹھتے تھے۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت صاحب مٹی کے تیل کی روشنی کے سامنے بیٹھ کر کام کرنا ناپسند کرتے تھے اور اس کی جگہ موم بتیاں استعمال کرتے تھے۔ایک زمانہ میں کچھ عرصہ گیس کا لیمپ بھی استعمال کیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ کئی کئی موم بتیاں جلا کر سامنے رکھوا لیتے تھے اگر کوئی بھی بجھ جاتی تھی تو اس کی جگہ اور جلا لیتے تھے اور گھر میں عموماً موم بتیوں کے بنڈل منگوا کر ذخیرہ رکھوا لیتے تھے۔خاکسار کو یاد ہے کہ ایک دفعہ اس دالان میں جو بیت الفکر کے ساتھ ملحق شمال کی طرف ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام شمالی دیوار کے پاس پلنگ پر بیٹھے ہوئے شاید کسی کام میں مصروف تھے اور پاس موم کی بتیاں جلی رکھی تھیں۔حضرت والدہ صاحبہ بتیوں کے پاس سے گزریں تو پشت کی جانب سے ان کی اوڑھنی کے کنارے کو آگ لگ گئی اور ان کو کچھ خبر نہ تھی۔حضرت مسیح موعود نے دیکھا تو جلدی سے اٹھ کر اپنے ہاتھ سے آگ بجھائی۔اس وقت والدہ صاحبہ کچھ گھبرا گئی تھیں۔5 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام