سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 71
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم عدالتی طریق کار کے مطابق برتاؤ کرے۔(75) 71 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت عمر کا یہی عدل وانصاف تھا۔جس کی بناء پر اہل یورپ کو بھی کہنا پڑا کہ اگر اسلام میں ایک اور عمرہ پیدا ہو جاتا تو آج عالم اسلام کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔حضرت عمر نے اہل بیت المقدس سے جو معاہدہ کیا وہ آزادی مذہب و ضمیر کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری مثال کے طور پر پیش کیا جاتا رہے گا۔معاہدہ میں تحریر تھا ایلیاء کے رہنے والوں کو امان دی جاتی ہے، ان کے گر جاؤں اور مذہب سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔مذہب کے بارے میں ان پر کوئی جبر نہ ہوگا۔۔۔اس معاہدے پر خدا اس کے رسول، خلفاء اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔“ (76) مسیحیوں کے مذہبی سر براہ اعلیٰ اسقف کے ساتھ زیارت بیت المقدس کے دوران کلیسائے قیامت میں نماز کا وقت ہو گیا۔انہوں نے کہا آپ یہیں نماز پڑھ لیں۔حضرت عمر نے کمال دور اندیشی سے فرمایا اگر میں نے ایسا کیا تو مسلمان میری پیروی میں یہاں نماز پڑھیں گے اور آپ کو گر جاؤں سے نکال دیں گے۔اور عہد امان کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہوگا۔“ چنانچہ انہوں نے باہر تشریف لاکر کلیسائے قسطنطین کے دروازے کے سامنے مصلی بچھوا کر نماز پڑھی۔یہ واقعہ ان کی اسلامی رواداری کی شاندار مثال ہے۔(77) حضرت عمر نے اپنی شہادت سے چار روز قبل فرمایا اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی دی تو میں اہل عراق کی بیواؤں کا ایسا بندوبست کرونگا کہ انہیں میرے بعد کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔(78) حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ایک تجارتی قافلہ نے مدینہ کے نواح میں عیدگاہ پر پڑاؤ کیا حضرت عمرؓ نے عبد الرحمن بن عوف سے کہا آئیں آج رات ہم ان کی حفاظت کی خاطر پہرہ دیں۔چنانچہ وہ رات ان کا پہرہ دیتے اور نماز پڑھتے رہے۔حضرت عمرؓ نے ایک بچے کے مسلسل رونے کی آواز سنی تو اس کی والدہ سے جا کر کہا کہ اللہ سے ڈرو اور بچے سے حسن سلوک کرو۔وہ پھر رویا تو حضرت عمرؓ نے یہی کہا۔جب رات کے آخری حصے میں بچہ پھر رویا تو حضرت عمر نے اس کی والدہ کو پھر نصیحت کی اور پوچھا کیا وجہ ہے تمہارا بیٹا رات بھر بے چین رہا۔اس نے کہا دراصل میں اس کا دودھ