سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 63 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 63

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 63 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نرمی و شتل طبیعت کی اس تمام تریختی اور شدت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے خلافت کی ذمہ داری جب آپ پر ڈالی تو مزاج میں عجیب قسم کی نرمی آ گئی اور وہی بات ہوئی جو حضرت ابو بکڑ نے فرمائی تھی۔جب ان سے شکایت کی گئی کہ آپ نے حضرت عمر کو خلافت کے لئے نامزد کیا ہے۔ان کی طبیعت میں سختی ہے تو حضرت ابوبکر نے کہا جب خلافت کی ذمہ داری ان پر پڑے گی تو وہ ان کو نرم کر دے گی پھر واقعی ایسا ہی ہوا۔(51) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسی نے مجھے فتح تستر کی خبر دے کر حضرت عمرؓ کے پاس بھجوایا، انہوں نے قبیلہ بکر بن وائل کے اسلام سے منحرف ہونے والوں کے بارہ میں پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین وہ لوگ اسلام سے مرتد ہو کر مشرکین سے جاملے ہیں۔سوائے قتل کے ان کے لئے کوئی چارہ نہیں۔حضرت عمرؓ نے فرمایا۔اگر میں ان کو طاعت و صلح کے ساتھ واپس لے لوں تو مجھے تمام دنیا کے مال وزر سے زیادہ پسند ہے۔میں نے کہا اگر آپ ان پر قدرت پالیتے تو کیا کرتے ؟ آپ نے فرمایا ”میں ان پر وہی دروازہ (اسلام کا) پیش کرتا جس سے وہ نکلے تھے کہ وہ اس میں پھر داخل ہو جائیں۔اگر وہ ایسا کر لیتے تو ان سے اسلام قبول کر لیتا ورنہ زیادہ سے زیادہ انہیں قید کردیتا“۔(52) مالی قربانی غزوہ خیبر میں حضرت عمر کو مال غنیمت میں زمین کا بڑا ٹکڑا ملاتو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ اس سے بہترین اور قیمتی مال مجھے آج تک نصیب نہیں ہوا۔اس کے بارے میں جیسے آپ ارشاد فرما ئیں وہاں خرچ کروں۔حضور نے فرمایا اگر پسند کرو تو اسے وقف کر دو کہ اصل محفوظ رہے اور اس کی آمد صدقہ میں خرچ ہو۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔یہ اسلام کا پہلا وقف تھا۔(53) اس کے بعد کے غزوات فتح مکہ اور حنین میں بھی حضرت عمرؓ شامل ہوتے رہے۔غزوہ تبوک کے موقع پر جب چندہ کی خاص تحریک ہوئی۔حضرت عمر اس ارادہ سے اپنے گھر گئے کہ حضرت ابو بکر