سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 59
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 59 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تو عمر نبی ہوتے۔لیکن چونکہ میرے معابعد نبوت نہیں بلکہ خلافت کا نظام جاری ہونا ہے۔اس لیے عمر خلافت کے منصب پر فائز ہوں گے۔حضرت عمر کو ایسے غیر معمولی دماغی قومی عطا کئے گئے جوالی پیغام والہام سے گہری مناسبت رکھتے تھے۔کتب حدیث وسیرت میں متعدد ایسے مقامات کا تذکرہ ہے جب حضرت عمر نے ایک رائے کا اظہار کیا اور اُسی کے موافق قرآن مجید میں وحی نازل ہوگئی۔چند خاص مواقع کا ذکر حضرت عمر خود فرماتے ہیں ” مجھے اپنے رب سے تین مواقع پر بطور خاص موافقت عطا کی گئی۔ایک مقام ابراہیم کو جائے نماز بنانے کے بارے میں دوسرے پردہ کے متعلق تیسرے بدر کے قیدیوں کے بارے میں۔(37) رسول اللہ علیہ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حق حضرت عمرؓ کی زبان اور دل پر جاری کر دیا ہے۔“ ابن عمر کہتے تھے کبھی لوگوں پر کوئی مشکل وقت نہیں آیا جس میں انہوں نے کوئی رائے دی ہو اور حضرت عمر نے بھی رائے دی ہو۔مگر قرآن حضرت عمر کی رائے کے موافق اترا‘ (38) شوق عبادت و دعا حضرت عمرؓ کو عظیم الشان اخلاق فاضلہ نصیب ہوئے تھے۔اخلاق فاضلہ کی جڑ تو دراصل خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کا ڈر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے خوف اور تقویٰ کے نتیجے ہی میں اعلیٰ اخلاق اور عادات انسان کو نصیب ہوتی ہیں۔حضرت عمرؓ کی ایک بیوی آپ کی رات کی عبادت کا حال یوں بیان کرتی تھیں:۔عشاء کی نماز کے بعد آپ سو جاتے اور پانی کا ایک برتن سرہانے رکھ لیتے۔رات جب آنکھ کھلتی پانی میں ہاتھ ڈال کر منہ پر پھیر لیتے اور بیدار ہوکر اللہ کی عبادت کرتے اور رات کو کئی مرتبہ اُٹھ کر کرتے۔یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہو جاتا۔‘ (39) حضرت عمر کو مجاہدات وریاضت اور دعاؤں سے خاص شغف تھا۔فتح مکہ سے واپسی پر انہوں نے رسول کریم ﷺ سے اجازت چاہی کہ خانہ کعبہ میں ایک رات اعتکاف کی منت پوری کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے بخوشی اجازت فرمائی۔ایک دفعہ مدینہ سے عمرہ پر جانے کی اجازت چاہی