سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 541 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 541

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نام و تعارف 541 حضرت زاہر بن حرام حضرت زاہر بن حرام رضی اللہ عنہ حضرت زاہر ابن حرام کا تعلق بنا مجمع قبیلہ سے تھا۔انہیں نبی کریم کے ساتھ غزوہ بدر میں شرکت کی توفیق ملی۔حضرت انس اور حضرت سالم بیان کرتے تھے کہ زاہر بن حرام صحابی رسول صحراء کے رہنے والے تھے۔وہ رسول کریم ﷺے کیلئے صحراء سے تھے لیکر آیا کرتے تھے۔جب وہ واپس گاؤں جانے لگتے تو نبی کریم نے انہیں تحائف عطا فرما کر رخصت کرتے اور فرماتے زاہر ہمارا دیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ہر چند کہ زاہر ایک بالکل سادہ اور ادنیٰ سی شکل کا آدمی تھا۔رسول کریم ہے اس کی سادگی اور اخلاص کی وجہ سے اس سے بہت محبت کرتے تھے۔محبت رسول کے مورد ایک روز زاہرا پنا سامان فروخت کرنے گاؤں سے شہر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے کی بجائے سیدھا گاؤں بازار سودا بیچنے چلے گئے۔رسول کریم ﷺ کا ادھر سے گزر ہوا تو دیکھا کہ وہ منڈی میں اپنا سودا بیچ رہے ہیں۔آپ نے اپنی محبت کے اظہار کیلئے پہلے تو زاہر کو کندھوں کے پیچھے سے پکڑ کر چھی ڈال لی پھر ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لئے۔ان کا منہ دوسری طرف تھا۔حضور یہ کو دیکھ نہیں سکے۔اپنے دھیان میں ہی کہنے لگے ، کون ہو مجھے چھوڑ دو! پھر جو گردن گھمائی تو دیکھا کہ رسول خدا ﷺ میں پہلے تو فرط محبت میں آپ کا ہاتھ چوما۔پھر اپنے لاڈ اور پیار کا اظہار کرتے ہوئے خوشی سے اپنی پشت حضور کے سینہ سے ملنے لگے۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی ہے جو اس غلام کو خریدے؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! پھر تو آپ مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا نہیں نہیں تم کم قیمت نہیں۔اللہ کے ہاں تمہاری بڑی قدر ہے۔دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ علیہ نے فرمایا اللہ کے نزدیک تم بہت منافع پانے والے ہو۔نیز یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا ” ہر شہری کا کوئی دیہاتی ( رابطہ ) ہوتا ہے اور آل