سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 514 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 514

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 514 حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا اسقف یعنی پادریوں کا سردار۔میں اس کے پاس چلا گیا اور اسے کہا کہ مجھے اس دین سے محبت پیدا ہوگئی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ گر جا میں رہ کر آپ کی خدمت کروں۔آپ سے علم سیکھوں اور عبادت کروں۔اس نے کہا ٹھیک ہے تم آجاؤ۔میں گر جا آ گیا۔مگر وہ شخص بہت برا انسان نکلا۔وہ لوگوں کو صدقہ و خیرات کی تحریک کرتا تھا اور جب جرات ملتی تو وہ اپنے لئے جمع کر کے رکھ دیتا اور غربیوں اور مسکینوں کو نہ دیتا۔یہاں تک کہ اس کے پاس سونے اور چاندی سے بھرے ہوئے سات گھڑے جمع ہو گئے۔اس کے کاموں کی وجہ سے میرے دل میں اس کیلئے سخت نفرت پیدا ہوگئی۔جب وہ فوت ہوا تو مسیحی اسے دفن کرنے کیلئے آئے۔میں نے انہیں اس کی ساری کر تو تیں کھول کر بتا دیں۔پہلے تو انہوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ تمہارے پاس اس کا کیا ثبوت ہے؟ میں نے کہا میں تمہیں اس کا مال اور خزانہ دکھا سکتا ہوں۔انہوں نے کہا اچھا ہمیں دکھاؤ۔جب میں نے انہیں وہ جگہ بتائی تو واقعی وہاں سے سونے اور چاندی سے بھرے سات گھڑے نکلے جنہیں دیکھ کر انہوں نے کہا۔خدا کی قسم ہم اسے ہرگز دفن نہیں کریں گے۔پھر انہوں نے اسے سولی پر چڑھایا اور پتھروں سے سنگسار کر دیا۔پھر اس کی جگہ وہ ایک اور شخص کو لے آئے جو دین کا بڑا عالم و فاضل تھا اور اخروی زندگی میں رغبت رکھنے والا عابد وزاہد اور بے حد نیک انسان تھا۔میں نے کوئی پانچ نمازیں پڑھنے والا اس سے افضل نہیں دیکھا۔نہ ہی دن رات میں کوئی اس سے زیادہ نیکی پر مداومت اختیار کرنے والا پایا۔مجھے اس سے ایسی محبت ہوگئی کہ اس سے پہلے کسی سے نہیں ہوئی تھی۔میں ایک عرصہ اس کے پاس ٹھہرا۔جب اس کی موت کا وقت آیا تو میں نے کہا کہ اے نیک بزرگ ! آپ کیلئے تو اللہ کا حکم آگیا ہے۔اب مجھے کس کے سپر د کرتے ہیں اور کیا حکم دیتے ہیں۔انہوں نے کہا میرے بیٹے خدا کی قسم مجھے کسی شخص کا پتہ نہیں جو آج اس دین اور اس کی بچی تعلیم پر قائم ہو جس پر میں قائم ہوں۔نیک لوگ مرگئے اور بعد والوں نے دین کو بدل دیا اور اس کی بہت ساری باتیں ترک کر دیں۔ہاں البتہ موصل میں فلاں شخص موجود ہے وہ میرے مسلک پر ہے تم اس کے پاس چلے جانا۔ان کی وفات تک میں ان کے ساتھ انہی کے مسلک پر رہا۔