سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 34 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 34

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 34 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہو گیا۔حضرت ابوبکر کے مکان پر پہنچ کر انہیں چادر اوڑھا کر پھر حضرت علی نے یہ تاریخی خطبہ دیا۔اے ابو بکر ! آپ رسول اللہ کے دوست تھے ، ان کے مونس تھے ، ان کے مرجع ومعتمد تھے، ان کے راز دار اور مشورہ دینے والے تھے ، آپ سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے زیادہ فائق الایمان تھے اور سب سے زیادہ مضبوط یقین کے تھے اور سب سے زیادہ خدا کا خوف رکھتے تھے۔آپ اللہ کے دین کے نافع تھے اور رسول اللہ کی نگہداشت میں سب سے زیادہ فائق تھے ، سب سے زیادہ اسلام پر شفقت کرنے والے تھے اور اصحاب رسول کے حق میں بہت بابرکت تھے اور سب سے زیادہ رسول اللہ اللہ کا حق رفاقت ادا کرنے والے تھے اور سب سے زیادہ مناقب میں اور سب سے افضل اسلامی امتیازات میں۔اور سب سے بلند مرتبہ میں۔اور سب سے زیادہ مقرب بارگاہ رسالت میں۔اور سب سے زیادہ روش اور عادت اور مہربانی اور بزرگی میں رسول اللہ اللہ کے مشابہ اور سب سے زیادہ مرتبہ کے لحاظ سے اشرف اور سب سے زیادہ رسول اللہ علیہ کے نزدیک با عزت اور سب سے زیادہ آپ کے نزدیک قابل وثوق تھے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام کی طرف سے اور اپنے رسول کی طرف سے جزائے خیر عطا کرے۔اے ابو بکر ! آپ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک بمنزلہ کان اور آنکھ کے تھے۔آپ نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق اس وقت کی جب تمام لوگ آپ کی تکذیب کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام اپنی کتاب میں صدیق رکھا۔چنانچہ فرمایا وَالَّذِی جَاء بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِه - اوروه شخص جو سچ لایا اور وہ شخص جس نے اس کی تصدیق کی سچ کو لانے والے محمد ہیں اور اس کی تصدیق کرنے والے ابو بکر ہیں۔اے ابو بکر ! آپ نے رسول اللہ کی غمخواری اپنے جان و مال سے اس وقت کی جب اور لوگ مال سے بخل کرتے تھے۔آپ نے ان کی رفاقت مصائب کے ایسے وقت میں کی جبکہ اور لوگ آپ کی اعانت سے بیٹھ رہے تھے۔آپ نے سختی کے زمانے میں ان کی صحبت اختیار کی۔آپ صحابہ میں سب سے مکرم ثانی اثنین، غار میں رسول اللہ اللہ کے ساتھی تھے۔جس وقت خدا کی طرف سے سکیت اور وقارا تارا گیا۔آپ ہجرت میں رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور دین میں اور امت میں ان کے خلیفہ تھے۔آپ نے فرائض خلافت کو خوب ادا کیا اور اس وقت آپ نے وہ کام کیا