سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 33
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 33 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ارادہ کریں وہ ضرور کر دیتے ہیں۔(85) ظاہر ہے کہ اس میں آپ کی وفات کی طرف اشارہ تھا۔رسول کریم نے فرمایا ” مجھ پر سب سے زیادہ احسان اپنی دوستی اور مال سے ابوبکر کا ہے۔اور اگر میں اپنے رب کے علاوہ کسی اور کو گہرا دوست بناتا تو ابوبکر کو اختیار کرتا۔‘(86)حضرت حسان نے کیا خوب کہا وَكَانَ حِبَّ رَسُولِ الله قَد عَلِمُوا خَيرَ الْبَرِيَّةِ لَم يَعِدِلُ بِهِ رَجُلاً کہ دنیا جانتی ہے کہ حضرت ابو بکر رسول اللہ کے محبوب ترین فرد تھے۔سب مخلوق سے بہتر وہ انسان جس کے مقابلہ کا کوئی شخص نہیں ہے۔(87) اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی قوم کے لئے جن میں ابوبکر موجود ہومنا سب نہیں کہ ان کو کوئی اور (نماز کی ) امامت کرائے۔(88) ایک دفعہ ایک عورت رسول کریم کے پاس آئی۔ملاقات کے بعد جاتے وقت کہنے لگی اگر میں آئندہ آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو کیا کروں۔آپ نے فرمایا: ”اگر مجھے نہ پاؤ، تو ابوبکر کے پاس آنا۔‘ (89) حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے اپنی بیماری میں فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ ابو بکر اور اس کے بیٹے کو بلوا بھیجوں اور وصیت کر دوں۔مبادا کوئی اعتراض کرنے والا اعتراض کرے یا خواہش کرنے والا خواہش کرے۔پھر میں نے کہا کہ ابوبکر کے سوا اللہ بھی انکار کر دے گا اور مومن بھی رڈ کر دیں گے۔‘‘(90) وفات ابو بکرہ پر حضرت علی کی تقریر حضرت ابو بکر کی وفات کے موقع پر ان کے کامران و کامیاب عہد خلافت کے بارے میں حضرت علی کی ایک جامع تقریر کا ذکر کرنا نہایت مناسب ہوگا۔’ ” جب حضرت ابو بکر صدیق نے انتقال فرمایا تو مدینہ (رونے والوں کی ) آواز سے گونج اٹھا جیسا کہ رسول اللہ کی وفات کے دن (رونے والوں کی آواز سے ) گونج اٹھا تھا۔پھر حضرت علی تشریف لائے اس حال میں کہ آپ انا اللَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے کہ آج خلافت نبوت کا خاتمہ