سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 450 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 450

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 450 حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ آنحضرت ﷺ کی معیت میں بھر پور شرکت کی سعادت ملی ہے۔سوائے غزوہ تبوک کے جس میں آپ مدینہ کے امیر تھے۔بعض اور غزوات میں بھی مدینہ میں اپنے پیچھے آنحضرت علیہ نے انہیں اپنا جانشین یا مقامی امیر مقررفرمایا، چنانچہ غزوہ قرقرة الکدر میں بھی ان کے مدینہ میں امیر مقرر کیا جانے کا ذکر ملتا ہے۔مدینہ سے باہر بھی مختلف مہمات کا امیر مقرر کر کے آنحضور علیہ نے ان کو روانہ فرمایا ان میں سے ایک سریۂ قرطا ء ہے جو قبیلہ بنی بکر کی طرف آپ کی سرکردگی میں بھیجا گیا۔تمہیں سواروں کا ایک دستہ آپ کے ہمراہ تھا اور بعض ذمہ داریاں بھی آپ کے سپرد تھیں جو نہایت کامیابی سے ادا کر کے آپ واپس لوٹے۔دوسرا اہم موقع سریہ ذی القصہ کا تھا جس میں دس افراد کا امیر مقرر فرما کر آپ کو اس مہم پر روانہ کیا گیا یہ بہت اہم اور نازک مہم تھی جس میں اس دستہ نے بہت نقصان اُٹھایا اور حضرت محمد بن مسلمہ کے علاوہ ان کے باقی تمام ساتھی شہید ہو گئے۔محمد بن مسلمہ کو بھی سخت چوٹیں آئیں اور دشمن ان کے کپڑے وغیرہ اتار کر برہنہ حالت میں انہیں کہیں پھینک گئے بعد میں بعض مسلمان وہاں سے گذرے تو انہوں نے ان کو سنبھالا اور واپس مدینہ لے کر آئے۔حضرت محمد بن مسلمہ فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت علیہ کے جملہ غزوات کے بارہ میں جتنا چاہو مجھ سے پوچھو کیونکہ حضور کا کوئی بھی ایسا غزوہ نہیں جس میں مجھے شامل ہونے کی سعادت عطانہ ہوئی ہو سوائے غزوہ تبوک کے جس میں حضور نے مجھے اپنے بعد مدینہ میں قائمقام مقر رفرمایا تھا، اسی طرح فرمایا کرتے تھے کہ حضور نے مختلف مواقع پر جتنی مہمات بھی بھیجیں ہیں۔ان میں کوئی بھی ایسی مہم نہیں جو مجھ پر خفی رہی ہو۔یا تو میں اس مہم میں خود شامل تھا یا پھر جب بھی اس مہم کو بھیجا گیا تو اس کے بارہ میں پوری معلومات رکھتا تھا۔(7) رسول کریم ع کی پیشگوئی حضرت محمد بن مسلمہ با وجود بڑی دلیری بے با کی اور نڈر ہونے کے، بہت امن پسند اور صلح جو تھے اور یہ صفت دراصل آپ کو آنحضرت عالیہ کی کامل اطاعت کے نتیجہ میں عطا ہوئی تھی۔حضور کوان پر کامل اعتماد تھا۔آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ان کو اپنی تلوار عطا کرتے ہوئے ایک پیشگوئی فرمائی تھی۔جو بڑی شان اور تفصیل کے ساتھ حضرت محمد بن مسلمہ کے حق میں پوری ہوئی اور وہ اعتماد