سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 445
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 445 حضرت ابودجانہ انصاری رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور تلوار سے لڑتے اور جہاد کرتے رہے اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہے۔جب تک مسلمان اس دروازے سے باغ کے اندر احاطے میں داخل نہیں ہو گئے۔انہوں نے جاکر مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا۔ایک اور صحابی بھی اس حملے میں شریک تھے لیکن مسیلمہ کذاب کو ہلاک کرنے والوں میں حضرت ابودجانہ بھی شامل تھے جن کی مدد سے مسیلمہ ہلاک ہوا۔آپ نے بڑی بہادری اور جرات سے جا کر مسیلمہ کذاب پر حملہ کیا اور اس راہ میں لڑتے ہوئے جنگ یمامہ میں شہید ہوکر جان دے دی۔(7) حضرت ابودجانہ کی شہادت ثقہ روایت کے مطابق جنگ یمامہ میں 12ھ میں ہوئی اور یوں آپ نے آنحضرت علی کی اس عطا فرمودہ تلوار ( جس کے ذریعے حضور نے آپ پر ایک عظیم الشان اعتماد کا اظہار کیا تھا) اس کا حق حضور کی وفات کے بعد جنگ یمامہ میں بھی ادا کر کے دکھا دیا۔صفائی قلب و باطن حضرت ابو دجانہ نہایت اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ایک دفعہ بیمار ہوئے تو چہرہ چمک رہا تھا۔کسی نے سبب پوچھا تو کہنے لگے کہ اپنے دو اعمال کی وجہ سے میرا دل خوش ہے۔شاید اللہ تعالیٰ ان کو قبول کر لے۔ایک تو یہ کہ میں کبھی کوئی لغو کلام نہیں کرتا نہ کسی کے بارہ میں کوئی غیبت نہ کوئی لغو بات نہ کوئی لایعنی کلمہ اپنی زبان پر لاتا ہوں۔دوسرے یہ کہ اپنا دل مسلمان بھائیوں کے لئے ہمیشہ صاف رکھتا ہوں اور کبھی کسی مسلمان کے لئے میرے دل میں کوئی کینہ اور بغض پیدا نہیں ہوا۔(8) یہ وہ صاف اور پاک دل لوگ تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں نچھاور کر کے اپنی پاک باطنی پر مہر کردی۔حضرت ابودجانہ کی شادی اپنے نھالی خاندان کی ایک خاتون آمنہ بنت عمرو سے ہوئی تھی۔جس سے ایک بیٹے خالد کا ذکر ملتا ہے۔(9) ان کی اولا د مدینہ اور بغداد میں آباد ہوئی۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نیک اور پاک نمونہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین