سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 23 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 23

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 23 حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر تو حید کامل پر بڑی شان سے قائم تھے۔ایک دفعہ حضرت عثمان نے کہا " کاش ! میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ مشکل سوال دریافت کر لیا ہوتا کہ شیطانی وساوس کا کیا علاج ہے۔“ حضرت ابو بکر نے فرمایا ” میں نے نبی کریم سے یہ سوال پوچھا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ کلمہ توحید پڑھ کر اس پر قائم ہو جانا ہی ایسے وساوس کا علاج ہے۔“ (51) ایک اور موقع پر فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے تمہیں کلمہ اخلاص (یعنی شہادت توحید ) اور ایمان باللہ سے بڑھ کر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔‘ (52) چنانچہ تو حید کی عظیم الشان صداقت پر کامل یقین و ایمان کے باعث ہی آپ صدیق کہلائے۔اور اس وصف کو نبیوں کے دل کی طرح پاک وصاف کر دیا تھا اور دراصل یہی چیز منبع اور سر چشمہ ہے آپ کے تمام اخلاق عالیہ کا جن میں تعلق باللہ، خشیت ، تواضع ، صدق ، شجاعت انفاق فی سبیل اللہ اور خدمت خلق وغیرہ شامل ہیں۔عبادت اور اخلاق فاضلہ کا حسین امتزاج انسان کے تعلق باللہ کا سب سے بڑا معیار اس کی عبادات اور دعائیں ہیں۔اپنے گھر میں چھوٹی سی مسجد بنا کر حضرت ابوبکر کے قرآن پڑھنے اور عبادت کرنے کا ذکر گزر چکا ہے۔بآواز بلند تلاوت کلام پاک کے جرم میں ہی آپ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔قارہ قبیلہ کے رئیس ابن الدغنہ آپ کو یہ کہ کر واپس لائے کہ آپ جیسے با اخلاق آدمی کو ہمارے شہر سے کیسے نکالا جا سکتا ہے جو صلہ رحمی کرنے والے دوسروں کے بوجھ اٹھانے والے، مہمان نواز اور مصائب میں مدد کرنے والے ہیں۔سیرت صدیقی پر یہ شاندار گواہی دے کر ابن الدغنہ آپ کو اپنی امان میں مکہ میں دوبارہ واپس لایا تھا۔عجیب توارد ہے کہ ابن الدغنہ کے بیان کردہ اوصاف ابو بکر وہی ہیں جو حضرت خدیجہ نے رسول کریم علی کے لئے پہلی وحی کے موقع پر بیان فرمائے تھے۔(53) حضرت ابو بکر کو دعاؤں سے بھی خاص رغبت اور شغف تھا اور اپنے اعلیٰ ذوق کے مطابق اس تلاش میں رہتے تھے کہ اپنے مولیٰ سے کیا مانگیں اور کیسے مانگیں اور بار ہا نبی کریم ﷺ سے اپنے اس صلى الله ذوق کی تسکین کے لئے پوچھا۔ایک دفعہ عرض کیا کہ مجھے اپنی نماز میں پڑھنے کے لئے کوئی عمدہ ہی دعا