سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 120
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 120 حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کا پایہ بہت بلند ہے۔آپ کی طرف کئی اشعار بھی منسوب ہیں جیسے غزہ خیبر کے رجزیہ اشعار علم تحویعنی عربی کلمات پر اعراب اور زیروز بر کے موجد بھی حضرت علی تھے۔(31) شہادت حضرت علی کی شہادت بھی تقدیر الہی تھی جس کی خبر رسول کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں انہیں دی اور صبر کی تلقین فرمائی تھی۔حضرت علی جب مدینہ سے کوفہ جانے لگے تو حضرت عبداللہ بن سلام نے روکنا چاہا اور کہا ” مجھے آپ کی جان کے بارہ میں خطرہ ہے اور رسول اللہ نے مجھے یہ خبر دی تھی۔خود حضرت علیؓ نے بھی شہادت سے قبل اپنی داڑھی کے خون آلود ہونے کا ذکر کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی پیشگوئی فرمائی تھی۔چنانچہ حضرت علی کو بد بخت عبدالرحمان بن ملجم خارجی نے فجر کی نماز پر آتے ہوئے شہید کر دیا۔بعض روایات کے مطابق اس نے دوران نماز حضرت علی پر حملہ کیا۔یہ در دناک سانحہ در اصل گروہ خوارج کی اس گہری سازش کا نتیجہ تھا جو ایک ہی دن میں صبح کی نماز پر کوفہ میں حضرت علی کو مصر میں حضرت عمر و بن العاص اور شام میں حضرت معاویہ پر قاتلانہ حملہ کے بارے میں تیار کی گئی۔کوفہ کی ایک خارجی عورت بھی اس میں شریک تھی۔جس نے قاتل سے حضرت علی کے قتل کے شرط پر نکاح کا وعدہ کیا تھا۔قاتلوں نے اپنا منصوبہ بناتے ہوئے یہ جائزہ بھی لیا کہ حضرت علی اکیلے نمازوں پر تشریف لاتے ہیں۔ان کے لئے کسی حفاظتی پہرہ کا کوئی انتظام نہیں اس لئے نماز پر آتے ہوئے حملہ کیا جائے۔قاتل نے اپنے معاون کو مدد کیلئے تیار کرنے کی خاطر دنیا میں شہرت اور آخرت میں جنت کے خوب وعدے کئے۔پھر رمضان کے آخری عشرہ کی ایک فجر کو وہ حضرت علی پر حملہ آور ہو گئے۔پہلے ابن ملجم کے ساتھی نے حملہ کیا جو خطا گیا پھر اس نے تلوار سے حملہ کیا اور کہا حکومت اللہ کی ہے تیری اور تیرے ساتھیوں کی نہیں۔حضرت علیؓ نے تلوار کا وار لگتے ہی فُرتُ وَرَبِّ الكعبة کا نعرہ بلند کیا کہ رب کعبہ کی قسم ! میں کامیاب ہو گیا۔پھر فرمایا یہ شخص جانے نہ پائے چنانچہ اسے پکڑ لیا گیا۔حضرت علیؓ نے فرمایا یہ قیدی ہے اس کی عزت کرو اور اچھی جگہ رکھو۔اس کے تین دن بعد حضرت علی کی وفات ہوگئی۔(32) حضرت امام حسنؓ نے حضرت علی کی شہادت پر تقریر کرتے ہوئے کہا ”اے لوگو! ایک ایسا شخص تم سے جدا ہوا کہ پہلے اس سے سبقت نہ لے سکے اور بعد میں