سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 72
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 72 حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ چھڑانا چاہتی ہوں اور یہ ضد کرتا ہے۔فرمایا 'وقت سے پہلے اس معصوم کا دودھ کیوں چھڑاتی ہو؟“ وہ کہنے لگی اس لئے کہ حضرت عمر دودھ پیتے بچے کا وظیفہ مقرر نہیں کرتے۔حضرت عمر نے کہا تیرا بھلا ہو۔اسے دودھ چھڑانے کی جلدی نہ کرو۔پھر مسجد نبوی میں جا کر نماز فجر پڑھائی۔غلبہ رقت کی وجہ سے تلاوت لوگوں کو سمجھ نہ آتی تھی۔سلام پھیر کر اپنے آپ سے کہنے لگے۔اے عمر! تیرا برا ہو!نا معلوم تم نے کتنے مسلمانوں کے بچوں کو قتل کیا پھر اعلان عام کر دیا کہ آئندہ سے دودھ چھڑوانے میں جلدی نہ کریں۔آج سے ہر مسلمان نومولود کا وظیفہ مقرر کیا جاتا ہے۔(79) حضرت عمرؓ کے پاس ابوموسی کی طرف سے ( یمن سے ) ایک شخص آیا انہوں نے اس سے وہاں کے لوگوں کے بارے میں پوچھا اور فرمایا وہاں کی کوئی خبر؟ اس نے کہا کہ ایک شخص نے اسلام قبول کرنے کے بعد کفر کا اعلان کر دیا ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا پھر تم نے اس کے ساتھ کیا کیا؟ وہ کہنے لگا ہم نے اسے قتل کر دیا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا تم نے اسے تین دن کی مہلت کیوں نہ دی۔یتم ہر روز اسے کھانا کھلاتے اور پھر اسے تو بہ کرنے کو کہتے۔شاید وہ تو بہ کر لیتا اور اللہ کے حکم کی طرف واپس لوٹ آتا۔پھر فرمانے لگے اے اللہ ! میں وہاں موجود نہیں تھا اور نہ میں نے یہ حکم دیا ( کہ اس شخص کو ) قتل کر دیا جائے اور جب یہ بات مجھ تک پہنچی تو ہرگز مجھے اچھی نہیں لگی۔(80) حضرت عمر ایک عیسائی راہب کے پاس سے گزرے تو وہاں رک گئے۔اس راہب کو کسی نے آواز دے کر بلایا اور کہا۔”یہ امیر المؤمنین ہیں۔“ وہ راہب آیا۔ترک دنیا اور فاقہ اور مسلسل عبادت کی وجہ سے وہ بے حال ہو چکا تھا۔حضرت عمر نے اس کی یہ حالت دیکھ کر رو پڑے۔کسی نے کہا کہ یہ تو عیسائی ہے آپ کیوں روتے ہیں؟ فرمانے لگے مجھے علم ہے لیکن مجھے اس پر ترس آیا اور قرآن کی یہ آیت یاد آئی کہ کچھ لوگ عمل کرنے والے اور محنت کرنے والے ایسے ہونگے۔جو بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہو نگے۔(سورۃ الغاشیہ آیت 5-4) مجھے اس کی محنت اور عبادت کا حال دیکھ کر اس پر ترس آیا کہ اس کے باوجود یہ بے چارا آگ میں جائے گا۔(81) فضائل رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس نے عمر کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اور جس نے عمر