سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 32
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سب نیکیاں جمع کرنے کی توفیق پائی اس پر جنت واجب ہوگئی۔(82) یہی مضمون آنحضرت ﷺ کی ایک اور مجلس میں اس طرح بھی ظاہر ہوا۔آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جنت کے مختلف دروازے ہوں گے۔کوئی نماز کا دروازہ ہوگا تو کوئی صدقہ کا اور کوئی روزے کا یہ نیکیاں بجالانے والے مومن ان دروازوں سے جنت میں داخل ہوں گے اور جنت کے دربان فرشتے ان کو آواز دے کر بلائیں گے کہ اے نمازیو! آؤ اور نماز کے دروازے سے جنت میں داخل ہو جاؤ۔اور اے صدقہ اور روزہ والو! تم اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جاؤ“۔حضرت ابو بکر نے بھی کیا لطیف سوال کیا کہ یا رسول اللہ جس شخص کو ایک دروازے سے بھی جنت میں داخلہ کی ندا آئے اسے حاجت تو نہیں کہ دوسرے دروازوں سے بھی بلایا جائے۔مگر کیا کوئی ایسا خوش نصیب بھی ہوگا جسے جنت کے تمام دروازوں سے دربان فرشتے پکاریں گے۔حضور ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! اے ابو بکر میں اُمید کرتا ہوں کہ تو ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوگا جسے تمام دروازوں سے جنت کے دربان فرشتے جنت میں آنے کی دعوت دیں گے۔(83) اس طرح آنحضرت نے جہاں آپ کو تمام نیکیوں میں اعلیٰ ذوق اور کامل مقام کے حامل ہونے کی خوشخبری سنائی وہاں تمام مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ اگر تم بھی چاہتے ہو کہ سب دروازوں سے جنت میں بلائے جانے کا اعزاز پاؤ تو سیرت صدیقی اختیار کرو۔جو نام ہے کامل اطاعت اور سپرداری کا اور خدا کی رضا پر راضی ہو جانے کا۔مقام ابوبکر حضرت ابوبکر کے اس مقام بلند کی خبر حضرت جبرائیل نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کو ان الفاظ میں دی کہ عتیق، یعنی آگ سے آزادا بو بکڑ کو کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے۔(84) حضرت ابو بکر طبعا انکساری کے باعث اپنے الہامات وکشوف کا ذکر نہ کرتے تھے۔بعض دفعہ کسی سوال کے جواب میں مجبوری سے ذکر کرنا پڑا تو پتہ چلا آخری بیماری میں صحابہ حضرت ابو بکر کی عیادت کو آئے تو عرض کیا کہ ہم آپ کے لئے کوئی طبیب نہ بلائیں؟ فرمایا میں نے ایک فرشتہ دیکھا ہے۔انہوں نے کہا اس نے آپ کو کیا بتایا ؟ آپ نے فرمایا اس نے کہا ”ہم (یعنی اللہ ) جس بات کا