سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 347 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 347

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 347 حضرت ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ گے اور بیعت کر کے آپ ہی کے ہو جائیں گے تو ان معاہدوں کا معاملہ جیسے آنحضور ارشاد فرما ئیں گے ہوگا۔ہم نے بہر حال آپ کی پیروی کرنی ہے اس موقع پر میں آپ کی خدمت میں ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں اور وہ دراصل ایک محبت بھری خواہش اور ایک بے قرار تمنا تھی جو ایک سچے عاشق کے دل میں اٹھی۔کہنے لگے "یا رسول اللہ اب ہمارا تعلق آپ سے قائم ہورہا ہے۔جب اللہ تعالیٰ آپ کی نصرت فرمائے اور آپ کی قوم پر آپ کو غلبہ نصیب ہو تو اس وقت آپ ہمیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم میں نہ چلے جائیں اور ہمیں داغ مفارقت نہ دیں، آنحضرت اپنے اس صحابی کی محبت بھری سوچ سے لطف اندوز ہو کر مسکرائے اور فرمایا ”تم کیسی باتیں کرتے ہو، اب تمہارا خون میرا خون ہو چکا ہے اب میں تم سے ہوں اور تم مجھ میں سے ہو ، جو تم سے جنگ کرے گا وہ مجھ سے جنگ کرے گا اور جو تم سے صلح کر دیگا وہ مجھ سے صلح کرے گا۔‘ (3) یہ تھا انصار مدینہ کا رسول اللہ ﷺ سے محبت اور وفا کا تعلق ہے جس کی بنیاد میں بیعت عقبہ میں رکھی گئیں۔غزوات اور مہمات میں شرکت ابوالہیثم مدینہ کے سردار اور بزرگ اصحاب میں سے تھے آنحضور نے حضرت عثمان بن مظعون کے ساتھ ان کی مواخات قائم فرمائی۔حضرت ابوالہیثم کو تمام غزوات میں مالی قربانی کے علاوہ دیگر خدمات کی توفیق بھی ملی، بدر، احد اور خندق میں شریک ہو کر بہادری کے جوہر دکھائے۔غزوہ موتہ میں حضرت عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد نبی کریم نے حضرت ابوالہیثم کو خیبر میں کھجوروں کے پھل کا اندازہ کرنے کے لئے بھی بھجوایا تھا۔وہاں مسلمانوں کی ملکیت میں جو باغات تھے۔ان کے نصف پھل مسلمانوں اور نصف یہود کے حصہ میں آتے تھے، ضرورت تھی کہ کوئی ذمہ دار صاحب عدل و بصیرت شخص وہاں جا کر ان باغات کے پھلوں کے درست اندازے کرے تا یہود کوفتنہ کا موقع نہ ملے۔یہ نہایت اہم خدمت اور نازک ذمہ داری حضور نے حضرت ابو الہیثم کے سپر دفرمائی۔(4) حضرت ابوالہیثم سے مروی ایک مشہور حدیث یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو السلام علیکم کہتا ہے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اسکے ساتھ ورحمۃ اللہ کہنے والے کو ہیں نیکیاں اور و برکاتہ