سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 334
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 334 حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنہ بالآخر اپنے آقا و مولا حضرت محمد مصطفی کے پاس حاضر ہو کر ہی اپنے دکھ عرض کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ ایسی ہی تکلیفوں اور مصیبتوں کی تاب نہ لاکر میں بھی حضور کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور صحن کعبہ میں ایک دیوار کے سایہ میں بیٹھے تھے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک درخت کے سائے میں اپنا با زوسر کے نیچے رکھے لیٹے تھے میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ ہمارے لئے دعا نہیں کریں گے؟ اس قوم نے تو ظلم کی حد کر دی اور ہمیں یہ ڈر پیدا ہونے لگا ہے کہ یہ کہیں ہمیں اپنے دین سے ہی منحرف نہ کر دیں۔آنحضرت خاموش رہے اور دوسری طرف رخ پھیر لیا۔خباب کہتے ہیں کہ میں نے دوسری دفعہ پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ گیا آپ ہمارے لیے دعا نہیں کریں گے؟ حضور پھر خاموش رہے تیسری دفعہ عرض کیا تو آنحضرت نے فرمایا کہ اے اللہ کے بند واللہ کا تقویٰ اختیار کر و صبر کرو اور صبر پر قدم مارتے چلے جاؤ۔خدا کی قسم ! تم سے پہلے بھی خدا کے مظلوم بندے گزرے ہیں جن کے سر کے درمیان سے آرے چلا کر ان کے جسموں کو دو ٹکڑے کر دیا گیا۔وہ اپنے ایمان سے پیچھے نہ ہٹے ان میں سے ایسے بھی تھے کہ لوہے کی گرم کنگھیوں سے ان کے جسم کا گوشت ان کی ہڈیوں سے نوچ لیا گیا۔مگر خدا کے ان بندوں کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی۔پس آج تمہیں بھی ان مصائب اور اذیتوں کے مقابل پر اور ہمت سے کام لینا ہوگا۔یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ بالآخر اپنے دین کے لئے فتح اور غلبہ کے سامان پیدا فرمانے والا ہے۔(6) نبی کریم ﷺ کی یہ ایمان افروز باتیں ان مظلوموں کی ڈھارس بندھاتی تھیں۔حضرت خباب کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ بہت متوکل انسان تھے۔بعد کے زمانے میں ان کی قربانیوں کے طفیل خدا تعالیٰ کے بہت فضل اور انعام ان پر ہوئے لیکن ان کی نظر اس بات پر رہتی تھی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ ہماری قربانیوں کے پھل ہمیں یہیں مل جائیں اور ہم اجر دنیا سے زیادہ حصہ نہ پالیں اور ہمارے آخرت کے اجر میں کوئی کمی نہ آجائے۔آخری بیماری اور خشیت الہی چنانچہ حضرت خباب کی آخری بیماری میں بعض صحابہ ان کی عیادت کیلئے گئے وہ کہتے ہیں کہ خباب بڑی شدید بیماری اور تکلیف میں تھے جس کی وجہ سے ان کے پیٹ کو سات مرتبہ داغنا پڑا۔