سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ

by Other Authors

Page 18 of 586

سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 18

سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 18 حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضرت ابو بکر سکا ایک زبردست کارنامہ وراثت رسول کا فیصلہ تھا۔یہ ایک بہت نازک مرحلہ تھا جب اہل بیت کی طرف سے رسول اللہ اللہ کے ورثہ کا سوال اٹھایا گیا۔ایک طرف اہل بیت رسول سے محبت اور جذباتی تعلق دوسری طرف منصب خلافت کی ذمہ داری سے قومی اموال کی تقسیم میں عدل کا تقاضا۔حضرت ابوبکرؓ نے رسول اللہ کے اس ارشاد کی روشنی میں کہ ”ہمار اور یہ نہیں چلے گا اور ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔“ نہایت درجہ انصاف کے ساتھ یہ تاریخی فیصلہ کیا کہ ان اموال میں سے اہل بیت فائدہ اٹھائیں گے۔جس طرح نبی کریم ﷺ کی زندگی میں استفادہ کرتے تھے مگر یہ جائیداد بطور ورثہ تقسیم نہ ہوگی۔حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے تسلی دلاتے ہوئے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی قرابت مجھے اپنی قرابتوں اور رشتہ داریوں سے بھی کہیں زیادہ عزیز ہے۔لیکن میں ان اموال میں کوئی کوتاہی نہ کروں گا نہ کسی خلاف عدل فیصلہ کا مرتکب ہوں گا۔بلکہ جیسے رسول الله ع ان اموال میں تصرف فرماتے تھے وہی کروں گا۔“ چنانچہ حضرت فاطمہ اس پر راضی ہو گئیں۔(41) الغرض نبی کریم کی وراثت کا مسئلہ بھی حضرت ابو بکڑ نے ہمیشہ کیلئے حل کر دیا۔جسے بعد حضرت علیؓ نے بھی قائم رکھا۔اس کے ساتھ ہی حضرت ابو بکر کے مختصر سے دور میں فتوحات کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہو گیا۔فتوحات کے اعتبار سے آپ کا زمانہ خلافت وہ مقدس دور ہے جس میں بعد میں بننے والی مستقل اسلامی حکومت کی داغ بیل پڑی۔چنانچہ آپ کے مبارک دور میں ہی حضرت خالد بن ولید (سیف اللہ ) اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں عراق ایران اور شام فتح ہوئے۔فتوحات ایران آنحضور ﷺ کے زمانہ سے ہی ایران سے کشمکش شروع ہوگئی تھی۔جب کسر کی شاہ ایران نے رسول اللہ ﷺ کا تبلیغی مراسلہ پھاڑ دیا اور کہا میرا غلام ہو کر مجھے ایسے خط لکھتا ہے۔رسول اللہ نے فرمایا ” خدا اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔پھر کسری نے یہودیوں کی سازش سے نبی کریم کی گرفتاری کے احکام بھی جاری کئے تھے۔اب خود اس کی حکومت کے ٹکڑے ہونے کا عمل شروع ہو چکا تھا، کسری کو اس کے بیٹے نے قتل کر دیا ، وہ چھ ماہ حاکم رہا پھر اس کی بیٹی پوران دخت حاکم بنی۔