سیرت صحابہ رسول اللہ ؐ — Page 281
سیرت صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم 281 حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بات یہ ہے کہ یہ شرف و سعادت تو واقعی انہیں حاصل ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں جب ہم حاضر نہیں ہو سکتے تھے تو یہ آپ کی خدمت کی توفیق پاتے اور آپ کی صحبتوں سے فیضاب ہوتے تھے۔(24) حضرت عبداللہ بن مسعود بہت عابد و زاہد انسان تھے اور اس لحاظ سے صحابہ میں ان کا ایک خاص مقام تھا آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے تمیم بن حرام کا کہنا ہے کہ میں کئی صحابہ کی مجالس میں بیٹھا ہوں مگر عبد اللہ بن مسعود کی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے رغبت کی اپنی ہی شان تھی اور ان کا یہ انداز اور طریق مجھے بہت ہی بھلا معلوم ہوتا تھا۔(25) حضرت عبداللہ کے علمی مرتبہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جن چار بزرگ صحابہ سے قرآن کریم پڑھنے اور سیکھنے کی ہدایت فرمائی ان میں پہلے نمبر پر عبداللہ بن مسعود کا نام تھا۔حضرت عبد اللہ بن عمر کہا کرتے تھے کہ جب سے میں نے نبی کریم ع سے قرآن سکھانے والوں میں پہلے نمبر پر عبداللہ بن مسعود کا نام سنا ہے اس وقت سے مجھے ان سے ایک دلی محبت ہے۔(26) علمی مرتبه حضرت ابن مسعودؓ کے علمی مقام اور مرتبہ کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب معاذ بن جبل کی وفات کا وقت آیا اور ان سے درخواست کی گئی کہ ہمیں کوئی نصیحت کریں تو انہوں نے فرمایا کہ علم اور ایمان کا ایک مقام ہے۔جو بھی ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے پھر علم اور ایمان سیکھنے کیلئے معاذ بن جبل نے جن چار عالم با عمل بزرگوں کے نام لئے ان میں عبد اللہ بن مسعود کا نام بھی تھا۔(27) اللہ تعالیٰ نے ابن مسعود کو دین کی سمجھ اور اجتہاد کی بصیرت سے نوازا تھا اور اس کے ذریعہ وہ امت کی رہنمائی فرماتے تھے۔حضرت عمر جیسے بزرگ خلیفہ بھی آپ کی علمی مرتبت کی وجہ سے آپ کا